![]() |
W.A.Nomani |
قرآن سائنس اور کائنات
علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے
وصی احمد نعمانی
ایڈوکیٹ سپریم کورٹ
اللہ کی ذات پاک ہے وہ ساری کائنات کا رب اور خالق ہے۔اسی کی حکمرانی بحروبر پرہے۔ زمین و آسمان میں ذرہ برابر کوئی ایسی چیز یا عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کی مرضی اور جانکاری کے بغیر ہو۔ اس نے سوچا اور ’’کن فیکون‘‘ کے مصداق میں کچھ اس کی مرضی کے مطابق ہو گیا۔ ایسا یقین اعتماد رکھنے والا خدا کا بے حد پیارا بندہ کہلاتا ہے اور ایسے با اعتماد و خوش نصیب بندے کو خدا اس دنیا کی بے پناہ دولتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ راقم اپنے کو بے حد خوش بخت سمجھتا ہے جبکہ اس پروردگار عالم نے اپنی بے پناہ کرم فرمائیوں سے ہمیشہ نوازا اور پختہ ایمان ہے کہ وہ ہمیشہ آگے بھی نوازتا رہے گا۔ انشاء اللہ۔
یہ بھی اس کی کرم فرمائی ہے کہ راقم جیسے کمتر انسان کے دل و دماغ میں اس نے ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کا عزم دے رکھا ہے جو صرف اسے نصیب ہوتا ہے جسے وہ اپنے نظام کرم سے نوازنے کا فیصلہ کر لیتا ہے اسی کی رحمت کے طفیل میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ کیوں نہ قرآن، سائنس اور کائنات کے عنوان پر کچھ کام کیا جائے اور یہ ارادہ دل میں پیدا ہوتے ہی یہ عمل میں بدل لیا اور ہندوستان سے نکل کر کناڈا، دبئی کی سرزمین تک اس اہم موضوع پر تقریر کرنے کا موقع ملا ،چونکہ خدا کا کلام سامعین کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ۔ اس لئے اس کی مانگ بھی بڑھ گئی۔ اب انشاء اللہ، ہاؤس آف لارڈز انگلینڈتک میں تقریر کاموقع دستیاب ہو رہا ہے۔ یہ صرف اور صرف خدا کی مرضی ہے کہ اس کا پاک کلام ہر با شعور ذہن پر اثر کرے اور اپنا کارنامہ انجام دے۔
۔ آج کا وقت سائنس و ٹکنالوجی کا وقت ہے اور زمانہ نے اس کا لوہا بھی مان لیا ہے۔ انسان ، جانور، بے جان، پتھر، سمندر، آسمان غرضیکہ زمین و آسمان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب پر سائنس و ٹکنالوجی کی حکومت جیسی لگتی ہے۔ مگر سائنس بذات خو دکس کی نگرانی اور سلطنت میں ہے اس نکتہ پر خود سائنس بھی تاریکی میں ہے لیکن خدا بڑے اور عظیم سائندانوں سے اپنا کام بخوبی لے رہا ہے اور سائنس عقل و شعور کو جلا دیتی ہے مگر جب تک انسان اس کی تخلیق، اس کا حشر، اس کی زندگی کا مقصد، سائنس کی نگاہ میں طے اور صاف نہیں ہو جاتا ہے ، خود سائنس بھی اندھیرے میں ہے۔ اسی طرح جب تک زمین و آسمان کے درمیان موجود تمام چیزوں، ان کی حرکات و سکنات کی صحیح صحیح جانکاری سائنس کو نہیں ہو جاتی ہے، سائنس کا علم اس وقت تک بذات خود نامکمل ہے۔ جبکہ سائنس میں ایسی تعلیم ہے جس کے ذریعہ سچائی کی تلاش کی جا سکتی ہے۔ خدا کی ذات سچ ہے، درست ہے، مکمل ہے، لاثانی و لافانی ہے۔ سائنس سچائی کی تلاش ضرور کرتا ہے۔ مگر سمندر کی ایک بوند کے برابر ہی وہ کھوج کر سکتا ہے۔ پھر خدا کی کرشمہ سازی اور اس کی ذات گرامی کا صحیح پتہ کون دے سکتا ہے؟ اس کا ذریعہ کیا ہے ہم خدا کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی اپنی روش کی بھی تاب نہیں لا سکتے ہیں۔ صرف اس کی نشانیوں کے ذریعہ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ چاند، سورج، زمین کی گردش۔ موسم کا بدلاؤ، نظام شمسی کی گردش ، کہکشاؤں کی تابانی، آدمی کا پیدا ہونا، جینا، مرنا، پھول کا کھلنا، اس کی خوشبو، چڑیوں کا چہچہانا ، سمندر وں میں بے مثال زندگی کا پایا جانا، یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ انکے ذریعہ ہم خدا کی ذات گرامی کا صرف پتہ لگا سکتے ہیں۔ ہم اس طرح اسے دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ مگر پاک انسان کا دل تو اسے دیکھنے اور پا لینے کے لئے ہر طرح مچلتا رہتا ہے۔ پھر وہ خدا کو کیوں کر پاسکتا ہے؟ اس کائنات کی تخلیق کو وہ سمجھنے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔خدا کے حبیب آقا ئے مدنی رسول اکرمﷺ کی شفاء کے لئے بے چین رہتا ہے۔ پھر اسے سکون کیونکر میسر ہو سکتا ہے؟ ایسی کسمپرسی کے عالم میں جب وہ بھٹک کر پریشان ہو جاتا ہے۔ جب اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے تو اس کی معصومیت اور بے کسی پر ترس کھا کر خدا کہتا ہے کہ انہیں پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے تووقت وقت پر نبیوں، رسولوں اور کتابوں کو تمہارے پاس بھیجتا رہا ہے۔ ایسی آسمانی کتابوں میں آخری اور سب سے بہتر پسندیدہ کتاب آج
کے وقت میں قرآن کریم ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خدا نے اپنے ذمہ لی ہے اور کہا ہے!
( اِناِّنَحْنُ نَزِّلْناَ الذِّکرَوَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ)
’’یہ (قرآن) یاد دہانی ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں، سورہ نمبر 15،الجر آیت نمبر9اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عنوان ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان کے تحت آنے والے مضامینکو سمجھنے اور ان سے مستفید ہونے کے قبل، چار اہم الفاظ کو اچھی طرح ذہن نشیں کر لیں۔ تاکہ پوری طرح ہم مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ خدا کو جوڑ سکیں اور پھر خدا کی بے پناہ کرشمہ سازیوں کے سامنے سر جھکا سکیں اور یہ معجزہ قرآن کا ہے اسے آج کی ترقی پسند سائنس نے کس طرح ثابت کر کے خود کو خوش نصیب بنا لیا ہے اس کا محاسبہ کر سکیں ۔وہ چار الفاظ ہیں۔
(۱)قرآن ۔
(۲)سائنس( حکمت)
(۳)کائنات (Cosmos)
(۴) علممذکورہ بالا چار الفاظ کے گرد ہی تمام مضامینسفر کرتے رہیں گے ، کسی طرح سے بھی کوئی ’’الجھن‘‘ ان میں سے کسی لفظ کے بارے میں اس عنوان کے تحت آنے والے مضامین کو سمجھنے میں پریشانی کا باعث ہوگی، تو اس کا حل تلاش کر سکیں گے۔ اس لئے آیئے پہلے ان الفاظ کے معنی کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
’’یہ (قرآن) یاد دہانی ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں، سورہ نمبر 15،الجر آیت نمبر9اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عنوان ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان کے تحت آنے والے مضامینکو سمجھنے اور ان سے مستفید ہونے کے قبل، چار اہم الفاظ کو اچھی طرح ذہن نشیں کر لیں۔ تاکہ پوری طرح ہم مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ خدا کو جوڑ سکیں اور پھر خدا کی بے پناہ کرشمہ سازیوں کے سامنے سر جھکا سکیں اور یہ معجزہ قرآن کا ہے اسے آج کی ترقی پسند سائنس نے کس طرح ثابت کر کے خود کو خوش نصیب بنا لیا ہے اس کا محاسبہ کر سکیں ۔وہ چار الفاظ ہیں۔
(۱)قرآن ۔
(۲)سائنس( حکمت)
(۳)کائنات (Cosmos)
(۴) علممذکورہ بالا چار الفاظ کے گرد ہی تمام مضامینسفر کرتے رہیں گے ، کسی طرح سے بھی کوئی ’’الجھن‘‘ ان میں سے کسی لفظ کے بارے میں اس عنوان کے تحت آنے والے مضامین کو سمجھنے میں پریشانی کا باعث ہوگی، تو اس کا حل تلاش کر سکیں گے۔ اس لئے آیئے پہلے ان الفاظ کے معنی کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
۱۔قرآن: جس طرح کوئی ماہر، مدبر ، دور اندیش، انجینئر کسی بلند و بالا عمارت کے بغیر سب سے پہلے اپنا ایک منصوبہ بناتا ہے۔ ذہنی طور پر ایک خاکہ تیار کرتا ہے۔ یابلو پرنٹ بناتا ہے۔ نقشہ تیار کر کے ضابطہ طے کرتا ہے۔ یاکسی بڑی خوبصورت شاہ راہ کی تعمیر کرنے کے لئے تحریری طور پر دستاویز تیار کرتا ہے، بڑے اور عظیم پلوں کی تعمیر کے لئے ضابطے بناتا ہے۔ شہروں، یونیورسٹیوں، عظیم الشان اداروں کی تخلیق کے لئے قاعدہ قانون مرتب کرتا ہے تاکہ سب کچھ اس کے منصوبوں اور منشا کے مطابق چلے۔
پہاڑوں، ندیوں اور سمندروں پر باندھ کی تعمیر کر نے کے لئے ضابطہ بناتا ہے۔ پھر ان تمام تعمیر شدہ اداروں، شہروں کی کارکردگی انجینئرز کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہو،اس کے لئے وہ اپنی ٹیم بناتا ہے جس طرح کسی حکومت کو چاہے وہ شہنشاہی یا جمہوری ہو مگر اس کے دستوروں کو طے کیا جاتا ہے اس کی عمل آوری کے لئے مختلف شعبے کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح ضرورت اس بات کی تھی کہ اس کائنات کی تخلیق کے لئے اور پھر اس تخلیق کے بعد ٹھیک سے چلتے رہنے کے لئے ایک ضابطہ کی تشکیل کی جائے تاکہ زمین و آسمان کی ساری چیزیں ٹھیک اس طرح عمل کر یں جیسے اس کا خالق چاہتاہے۔ اگر کوئی اس کی مرضی کے برعکس کرتا ہے تو اسے سزا بھی اسی تناسب میں ملے تاکہ قانون کی پابندی کرنے والوں کو انعامات سے نوازا جا سکے۔ ان تمام کارکردگی کو ضابطہ کے مطابق چلنے اور چلانے کے لئے ایک دستور،کتاب، آئین وقا نون کی تشکیل خدا نے کی جس کے ذریعہ تمام کائنات کو ریگولیٹ کیا جاسکے۔ تو خدا نے مناسب جانا کہ ایک ’’دستور‘‘ کائنات کو بھی دیا جائے۔ تو ریت، انجیل، زبور جیسے آسمانی صحیفوں کے بعد آخری کتاب ’’قرآن‘‘ کی شکل میں اپنے محبوب پیغمبر آخر الزمان حضور اکرم ﷺ پر نازل کی جائے اور نازل کی گئی۔ یہی آسمانی کتاب پوری کائنات کا دستور ہے اور اسی کے تحت زمین و آسمان کی گردش، سمندروں کے جوار بھاٹے، آدمیوں کی آفزائش نسل وموسم کی تبدیلی، پھل پھول، باغ، بغیچے ، کھیت کھلیان، زندگی اور موت وغیرہ کو ریگولیٹ کہا جاتا ہے۔ یہی کتاب اس وقت پوری کائنات پر حکومت کرتی ہے اور قیامت کے روز بھی سزا ، جزا کا فیصلہ دو زخ وجنت کا راستہ اسی کتاب میں لکھے قوانین کے ذریعہ ہی ہوگا ۔ گویا کہ قرآن کریم کائنات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک بلو پرنٹ ہے اسی طرح۔
: سچائی کی تلاش کا دوسرا نام سائنس ہے۔ سائنس صرف سچ اور ثابت شدہ حقیقت کو مانتا اور اس کی وکالت کرتا ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ سائنس جھوٹ اور غلط کو صرف جھوٹ اور غلط ہی کہتا ہے۔ اسے کبھی سچ اور درست نہیں مانتا ہے۔ اگر سائنس نے کبھی کسی غلط نظریہ کو مان بھی لیا تو صرف اس وقت تک مانتا ہے جب تک وہ غلط بات کسی اور طرح سے غلط ثابت نہ ہو جائے۔سائنس درحقیقت حکمت ہے۔ جس کے ذریعہ سچ کی حفاظت ہوتی ہے اور غلط نظریوں کی مخالفت ہوتی ہے۔ سائنس بے خوف و خطر زبر کو زبر اور آب حیات کو آب حیات کہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی غلط بات سائنس نے کچھ دیر کے لئے درست مان بھی لی ہو فوراً اس سے انحراف کر لیتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ سائنس کا مانا ہوا نظریہ درست نہیں تھا بلکہ اب جو بات تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے وہی درست ہے تو اپنی غلطیوں کا اعتراف ببانگ دہل کرتا ہے۔
مثال کے طور پر مشہور سائنس داں’’ڈاردن‘‘ کے نظریہ کے مطابق انسان کے آباؤ اجداد بندر تھے ۔یہ نظریہ ایسا مشہور اور مقبول ہوا کہ سائنس دانوں کی پوری دنیا نے اس نظریہ کو نہ صرف درست مانا بلکہ اس کی خوب خوب تبلیغ ہوئی اور مذہب کے مخالفوں کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی،لیکن 1950میں ڈی این اے کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ انسان کی پیدائش میں ڈی این اے کروموزوم، نیو کلیس، پروٹو پلازمہ وغیرہ کا ہی عمل دخل ہے جو صرف قدرت کا کرشمہ ہے۔ سائنس نے فوراً اپنے غلط نظریہ کو غلط مان لیا اور غلط کو غلط کہا۔ہاں یہ شرط ضروری ہے کہ سائنس کا علم اور ریسرچ صحیح سمت میں ہو کیونکہ بقول ڈاکٹر فرانس بیکون ’’سائنس کا نامکمل علم آپ کو ملحد بنا دے گا لیکن سائنس کا وسیع اور عمیق مطالعہ آپ کو خدا پر ایمان رکھنے والا بنا دے گا۔‘‘یہی وجہ ہے کہ آج کا سائنسداں جھوٹے خداؤں کو توڑ چکا ہے ۔ یعنی’’لا الہ‘‘کے مقام تک پہنچ چکا ہے۔ صرف الااللہ کہنا باقی ہے اور اس مقام تک آنا رہ گیا ہے۔ اہم انکشافات نے سائنس کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ایک خدا کو نہ ماننا سائنس کے خلاف یعنی حقیقت کے خلاف ہے۔ البرٹ آئنسٹائن اور دیگر بہت سے سائنسدانوں کا شمار موحدوں (ایک خدا کو ماننے والوں) میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور کے بے شمار سائنسدانوں نے قرآن کریم کو خدا کی کتاب ثبوت کے ساتھ مانا ہے۔ اس طرح قرآن اور لفظ سائنس کا ’’ایک رابطہ ‘‘ہم پر یہ واضح کر دے گا کہ قرآن کریم ان رازوں اور خفیہ علوم کا مخزن ہے جس کی صحیح سوچ ہمیں خدا کی کرشمہ سازیوں کو سمجھنے میں نہ صرف مددگار ہے بلکہ اس وحدہ لا شریک تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہے۔
علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے
حترم قارئین! جناب وصی احمد نعمانی صاحب سپریم کورٹ آف انڈیا کے نامور وکیلوں میں سے ہیں۔ شعلہ بیاں مقرر اور مایہ ناز صاحب قلم ہیں۔جناب نعمانی اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں تحریر و تقریر کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت انجام دینے کا کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ تقریباً 10سال سے جناب وصی احمد نعمانی نے ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ جیسے اہم عنوان پر تحریر و تقریر کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ہندوستان کے شہروں، تعلیمی اداروں میں اس عنوان پر تقریروں کے ذریعہ ’’قرآن کریم‘‘ کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور بیرون ملک کناڈا، دبئی، شارجہ وغیرہ میں اپنی علمی کاوشوں سے لوگوں کو قرآنی تعلیمات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ موصوف کوہاؤس آف لارڈز(انگلینڈ) اور دیگر اہم مقامات پر بھی مذکورہ بالا عنوان پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ژی سلام نے اپنے 33ایپی سوڈ میں جناب نعمانی کی تقریر کو دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا ہے جو بے حد مقبول ہوا ہے۔جناب نعمانی کے مضامین ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان پر ’’چوتھی دنیا‘‘ میں قسط وار شائع ہورہے ہیں۔ قرآن کریم میں اکثریت رائے کے مطابق 6666آیتیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار کے قریب آیتیں سائنس کے رموز کے متعلق اطلاعات دیتی ہیں۔ ان تمام آیتوں پر منحصر سائنسی انکشافات کے بارے میں جناب وصی احمد نعمانی صاحب کے مضامین شائع ہوں گے۔ امید ہے کہ قاری حضرات ان مضامین سے مستفید ہوں گے۔(ادارہ)
گزشتہ سے پیوستہ
’چوتھی دنیا‘ کے گزشتہ شمارہ میں ’’سائنس، قرآن اور کائنات‘‘ کے موضوع کو ’’کور‘‘ کرنے کے لیے قاری سے درخواست یہ کی گئی تھی کہ خاص موضوع پر بحث شروع کرنے کے قبل چار عدد اہم الفاظ کو سمجھنے کی زحمت کریں۔ وہ الفاظ ہیں (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم۔ پہلے دونوں الفاظ پر قاری حضرات کی خدمت میں ہم اپنی گزارشات پیش کرچکے ہیں، آج باقی ماندہ دو الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ وہ دونوں الفاظ یہ ہیں ’’کائنات‘‘ اور ’’علم‘‘۔
گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس نے بہت سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس کے کچھ انکشافات قرآن کریم کی آیتوں سے مطابقت رکھتے ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سائنس کے بے شمار انکشافات قرآن کریم کے ذریعہ نشاندہی کی گئی باتوں کی تصدیق کر کے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آئیں گی۔ ان انکشافات کے ذریعہ صاحب عقل و فہم کا اعتماد اور اعتقاد زیادہ مضبوط ہوتا جائے گا کہ ’’اس کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے اور اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے۔‘‘ ایمان میں زیادہ پختگی پیدا ہوگی کہ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کا تخلیق کردہ ہے۔ وہی موجد ہے۔ اس ’’کاسموس‘‘(Cosmos) کا اور اس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزوں کا کنٹرول بھی ہے۔ اسی طرح میں بذات خود ایک طالب علم کی حیثیت سے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ سائنسی انکشافات کی مدد سے قرآن کریم کی بہت سی آیتوں کے ترجمے، تفسیر اور مقصد نزول زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے علما اور دانشوروں کے نزدیک قرآن کریم کی بے شمار آیتوں کی سائنسی تفسیر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایسے مشاہیر، دانشوروں اور علمائے کرام میں صف اول میں ’’علامہ طنطاوی جوہری‘‘ کا نام سرفہرست آتا ہے۔ علامہ ’’طنطاوی جوہری‘‘ مصر کی سرزمین کے مایۂ ناز عالم تھے۔ انہوں نے دیگر بڑے عالموں کی طرح یہ محسوس کیا کہ قرآن کریم میں بے شمار سائنسی نوعیت کے بیانات ہیں، اس لیے ان سائنسی موضوعات پر الگ سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ چنانچہ مولانا طنطاوی جوہری نے ’’جواہر القرآن‘‘ کے نام سے ایک مفصل تفسیر لکھ کر قرآن کریم اور اس آفاقی کتاب کے شیدائیوں کی عظیم خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی سائنسی انداز میں تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ علامہ طنطاوی جوہری کی زندگی میں یا ان کے زمانہ تک جتنی سائنسی ترقی ہوچکی تھی، انہوں نے ان تمام مضامین کی قرآن کریم کی آیتوں کی روشنی میں تفسیر کی ہے اور سب کو ’’جواہر القرآن‘‘ میں یکجا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور اس بات کی کوشش کی ہے کہ وہ یہ دکھائیں کہ قرآن کریم میں جتنے سائنسی مسائل و بیانات آتے ہیں، ان سب کی اب تک کے تجربے اور سائنسی تحقیقات سے تائید ہوتی ہے۔ گویا کہ جو باتیں قرآن کریم میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیان کی گئی ہیں، ان باتوں کی تصدیق و تائید آج کے نئے دور میں سائنسی انکشافات کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور سائنس جیسے جیسے ترقی کرتی جائے گی قرآنی ہدایات اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائیں، مگر یہ بات بھی قاری کے سامنے واضح کردینا ضروری ہے کہ قرآن نہ تو سائنس کی کتاب ہے اور نہ طب و حکمت کی، لیکن اس بات کی تحقیق ہوتی جارہی ہے کہ تمام اہم سائنسی انکشافات جو حتمی طور پر ثابت کیے جاچکے ہیں، ان میں بیشتر کا ذکر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ غالباً وقت اور زمانہ کے ساتھ سائنس کے ایسے انکشافات اور سامنے آئیں گے، جو قرآنی آیتوں کو لبیک کہیں گے اور سائنس داں یہ مانیں گے کہ قرآن ایک آفاقی کتاب ہے۔ یہ ان سائنس دانوں کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں اس میں کامیابی ملی کہ وہ بعض ایسے نظریات کا ثبوت پالیں جو سائنس میں موجود ہیں اور قرآن سے ثابت ہیں۔ دنیا کے بے شمار سائنس دانوں نے تو اس بات کا اعتراف کر بھی لیا ہے کہ قرآن کریم خدا کی کتاب ہے۔ ٹورنٹو یونیورسٹی(کناڈا) کے ڈاکٹر کیتھ مور، تھائی لینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر تاگاسین اور جرمن سائنس داں مورس بکالے وغیرہ نے تو 1981میں دمام یونیورسٹی(سعودیہ عربیہ) کی کانفرنس کے مباحثہ کے نتیجہ میں یہ بات ببانگ دھل قبول کرلی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ یہ تمام سائنس داں سورہ ’’المؤمنون‘‘ کی آیت نمبر 12سے 16تک کی تشریح اور معانی سمجھ لینے کے بعد ایسی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان آیات کی تشریح ’’افزائش نسل انسانی‘‘ کے عنوان میں کی جائے گی۔ یہی ساری وجہیں ہیں جنہوں نے راقم کے ذہن میں ’’قرآن،سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان پر تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ خدا قبول کرے ، آمین۔ کائنات کو سمجھنا خدا کی کرشمہ سازی اور اس کی کبریائی کو سمجھنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لفظ کائنات کو ٹھیک سے سمجھا اور پرکھا جائے۔ ہم نے دو اہم الفاظ ’’قرآن‘‘ اور ’’سائنس‘‘ کو سرسری طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اب کائنات کو سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔
چند لفظوں میں کائنات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی آنکھیں بند کرلیجیے اور تمام اشیا کو ذہن میں لانے کی جدو جہد کیجیے۔ آپ کے ذہن میں جو کچھ بھی آتا ہے، وہ سب کی سب کائنات ہیں۔ آپ، آپ کے رشتہ دار، والدین، بچے، پیڑ، پودے، زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے سب کے سب کائنات ہیں۔ چاند، سورج، پہاڑ، عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، زحل سب کے سب کائنات ہیں۔ پانی، کھٹا میٹھا پھل، زہرو آب حیات، کائنات ہیں۔ قلم، روشنائی، کار، ریل، ہوائی جہاز، راکٹ، جوار بھاٹا، کوہ آتش فشاں، گلیشیر، تمام قطب شمالی، تمام قطب جنوبی یہ سب کے سب کائنات ہیں۔ غرضیکہ انسانوں، جانوروں کے ذہن میں جو جو اشیاء آسکتی ہیں یا آتی جاتی ہیں، یہ سب کے سب کائنات ہیں یعنی خدا کی قدرت نے جو کچھ پیدا کیا ہے سب کائنات کی تعریف میں ہیں اور یہ پوری کائنات اس کائنات کی ساری چیزیں خدا کی پیدا کردہ ہیں اور سب کے سب اسی ایک اللہ کے حکم کے مطابق گردش کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ ’’ATOM‘‘ یا ذرہ انسان کے جسم کے ایک سوکھرب سیل یا خلیہ کائنات ہے اور ان سب میں خدا کی کرشمہ سازی پنہاں ہے۔ ان کرشمہ سازیوں کا انکشاف عقل و شعور کو بروئے کار لانے سے ہوتا ہے اور ایسا کرنے کا معجزہ خدا اپنے چہیتے بندہ کو ہی دیتا ہے۔ اسی لیے میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ سائنس دانوں کے ذریعہ بھی خدا اپنی کرشمہ سازیوں کا انکشاف کرتا ہے۔ ایسے سائنس دانوں کو خدا بے حد پسند بھی کرتا ہے جو اپنے ذہن و دماغ کا استعمال کر کے ایسے ایسے پنہاں راز کو آشکارا کرتے ہیں جو خدا کی مرضی کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے کائنات کو سمجھنا خدا کی کبریائی کا اعتراف کرنا ہوگا، کیوں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات کے ہر ذرہ میں خدا کی کبریائی پوشیدہ ہے۔ کائنات کو جاننا اور سمجھنا درحقیقت خدا کی ذات گرامی کو سمجھنے کی طرف اہم قدم ہے۔
سورج، چاند، تارے، ایٹم، خلیوں، کروموزومز، ڈی این اے وغیرہ کا معجزاتی طور پر نہایت ہم آہنگی سے اپنے اپنے فرائض کو انجام دینا، کائنات کا خدا کی مرضی کے مطابق حکم بجالانا ہے۔ پوری کائنات کی تخلیق ’’ایٹم‘‘ سے ہوئی ہے۔ ان ’’ایٹموں‘‘ یا ذروں کا آپس میں جڑا ہونا اور حد درجہ کی ہم آہنگی کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے رہنا، صرف خدا کی بے پناہ کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے۔ آدمی، زمین، آسمان، پہاڑ، پیڑ، پودے اپنی اپنی جگہ اس لیے ٹھہرے ہوئے اور اپنے اپنے کام میں فرمانبرداروں کی طرح اس لیے ڈٹے اور مشغول نظر آتے ہیں، کیوں کہ ان تمام کے ’’ایٹم‘‘ یا ذرے ایک نظر نہ آنے والی طاقت کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس غیرمرئی طاقت کا سائنسی نام میسون (Meson) ہے۔
mesonhttp://en.wikipedia.org/wiki/Meson
قیامت کے روز اس طاقت کو الگ ہوجانے کا حکم ہوگا کہ ایک ’’صور‘‘ کی آواز سے تمام ذرے بکھر کر روئی کے ’’گالوں‘‘ کی طرح اڑانے لگ جائیں گے اور یہ کائنات کا یا جن جن چیزوں کا ہم تصور کرسکتے ہیں، وہ سب کے سب تہہ و بالا ہوجائیں گے۔ اسی Mesonکی کشش یا کھنچاؤ یا طاقت کی وجہ سے ہم، آپ،کتاب، قلم، ساری کائنات منسلک اور مربوط ہے، کیوں کہ کائنات کی ہرچیز کا ذرہ یا ایٹم ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے طور پر گردش کر رہا ہے، جسے گردش نہیں دستیاب ہوگی، وہ مر کر ختم ہوجائے گا، مگر اس کا ذرہ ہمیشہ گردش میں رہے گا۔ انسان کے دفنانے یا جلانے کے بعد بھی اس کے جسد خاکی کا ہر ذرہ ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش میں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیبل، میز، کرسی، کار، ہوائی جہاز، عمارت، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ وغیرہ یہ سب کائنات ہیں اور ان سب کے ایٹم ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے رہتے ہیں اپنے اپنے مراکز پر۔ یعنی جسے گردش نصیب ہے، اس کو زندگی یا ثبات حاصل ہے۔ یعنی پوری کائنات خدا کے حکم سے اس وقت تک گردش میں ہے یا زندگی(سائنسی) میں ہے جب تک کہ صور نہیں پھونکا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر وہ چیز جو گردش میں ہے، کائنات ہے اور جو کچھ بھی کائنات میں ہے، وہ سب کے سب گردش یا رفتار میں ہیں یہاں تک کہ دفنائے گئے جسم کے باقی ماندہ ذرے، جلائے گئے جسم کے باقی ماندہ راکھ کے ایٹم، سب کے سب گردش میں رہتے ہیں۔ یعنی کائنات کی زندگی کا مطلب اس کی گردش ہے۔ اس کا بکھراؤ اس کی موت ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ !
(وَکُلّ فیَِْ فلَکٍّ َیسْبَحُوْنَ) ’
’سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں۔‘‘(سورہ یٰس، آیت نمبر 40)
http://en.wikipedia.org/wiki/Cosmos
اس لیے قرآن کریم کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے پوری کائنات کو جاننا یا ٹھیک سے سمجھنا ضروری ہے اور اس اہم کام کے لیے ضرورت پڑتی ہے اتھاہ علم کی۔ وہ علم جو خدا کی صفت یا خاصہ ہے۔ عبادت فرشتوں یا عابدوں کا خاصہ ہے۔ علم خدا کی صفتوں میں سے ایک صفت ہے۔ اسی لیے وہ علیم و خبیر ہے۔
علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے
’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے موضوع پر سلسلہ وار مضامین کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے چار اہم الفاظ کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت کے پیش نظر تین الفاظ (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات پر ہم گفتگو کرچکے ہیں، اب جو بیحد اہم لفظ ’’علم‘‘ ہے، اسے اچھی طرح جاننا ضروری ہے۔ پورے عنوان ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے تحت جتنے مضامین پیش کیے جائیں گے، وہ سب کے سب ایک دوسرے سے ’’چین‘‘ کی طرح منسلک ہوں گے اور علم کی تشریح یا تبصرہ کو ذہن میں رکھ کر باقی مضامین کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔
علم کا مطلب جاننا، نئی دریافت کو سمجھنا اور تحقیق و ریسرچ کے ذریعہ اس نکتہ تک پہنچنا جو تمام حقیقتوں کا نچوڑ ہے۔ علم وہ کنجی یا ذریعہ ہے، جس کے ذریعہ زمین و آسمان، بحر و بر اور ان سب کے اندر یا باہر جو کچھ ہے، اس کو جاننا علم ہے اور جب ان تمام چیزوں کو جانیں گے تو گویا قدرت کی، خدا کی نشانیوں کو جانیں گے۔ علم میں جتنی پختگی اور وسعت ہوگی، قرآن، حکمت، فلسفہ، سائنس، کائنات اور ان میں موجود تمام راز کو جاننے میں گہرائی ہوگی۔ مقصدیت اور افادیت ہوگی۔ گویا کہ علم کو کسی محدود یا بند کوزہ میں محصور کرکے نہیں سمجھا جاسکتا ہے، جب علم کا یہ مرتبہ ذہن میں بیٹھ جاتا ہے تو یہ بات سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے کہ علم کی کوئی ایک یا دو یا چند قسمیں نہیں ہیں، بلکہ علم بے پایاں، بے کنار اور لامحدود ہے، کیوں کہ علم خدا کی صفت ہے، اللہ کا خاصہ ہے جو خود بے پایاں بے کنارہ ہے، جو لامحدود ہے۔ اسے ٹھیک سے یا اپنی سکت بھر جاننے کے لیے لامحدود علم کی ضرورت ہے اور لامحدود کو محدود کے ذریعہ حاصل نہیں کیاجاسکتا ہے اور نہ کمتر علم کے ذریعہ اعلیٰ ترین کی ذات و صفات کو جانا جاسکتا ہے۔ اس لیے علم کو قانون میں تقسیم کرنا اس کی گہرائی، پہنانی اور وسعت کو کم کرنا ہوگا، اسی لیے نہ تو کوئی تعلیم جدید ہے اور نہ قدیم ہے۔ تعلیم صرف تعلیم ہے۔ علم ہمیشہ جدید ہے اور صرف جدید ہے۔ میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے ’’قدیم‘‘ اور ’’جدید‘‘ تعلیم پر یا اس طرح کی تقسیم پر مثبت غور کیا ہے۔ مگر میری نااہلی نے اس تصوراتی فرق کو سمجھنے میں کوئی مدد نہیں کی، جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے یا ان دونوں کے درمیان ہے، ان سب کی جانکاری کا نام علم ہے۔ دنیا میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں، تمام نئی پرانی تہذیب کی اطلاع کا نام علم ہے۔ گویا انسان کے ذہن و دماغ میں جس چیز کا تصور بھی ممکن ہے، ان سب کی بناوٹ، ان کی خصوصیت، کارکردگی کا نام علم ہے۔
اللہ رب العزت نے جب آقائے مدنی رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ آپ دعا کیا کریں کہ ’’اے میرے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما‘‘ تو خدا نے یہ چاہا کہ ان کا محبوب وہ سب کچھ جاننے کی کوشش کرے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے یا ان دونوں کے اندر ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب رسول خدا معراج میں تشریف لے گئے تو اللہ رب العزت نے حضور کے دونوں شانۂ مبارک پر اپنی رحمتوں کا دست مبارک رکھا اور ان کے سینۂ مبارک میں دونوں عالم کے مخفی علوم اور راز کو آشکار کردیا۔ اس کے باوجود خدا کا یہ فرمانا کہ اے میرے محبوب آپ ہم سے ہمیشہ دعا کے ذریعہ مانگیے کہ ’’اے میرے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ علم کا آسمان بے حد بلند ہے۔ اس کا دامن زمین و آسمان کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی ہوش مند انسان کس طرح علم کو ’’جدید‘‘ اور ’’قدیم‘‘ خانوں میں بانٹ کر اس کے لامحدود دائرہ کو سمیٹ سکتا ہے۔
مورخہ 28 جولائی 610ء سوموار کا دن عالم اسلام کی تاریخ میں بے پناہ مبارک دن ہے۔ اسی دن لگ بھگ دو یا ڈھائی بجے صبح کے وقت جبرئیل امین غار حرا میں تشریف لائے اور سرور کائنات رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمایا ’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘ سورہ الخلق نمبر 96، آیت نمبر 1-5 ، میں یہ فرمایا گیا کہ!
(اِقْرَْ اِ بْسمَِ ربِّکَ اَّلذِیْ خَلَقً(۱)خَلَقَ اْلاَ اْنسَانَ مِنْ عَلَقٍ(۲)اِقْرَاْ وَرَبُّکَ اْلاَکْرَمُ(۳)اَّلذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(۴)عَلَّمَ اْلِانْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ(۵)’’
پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، پیدا کیا انسان کو علق سے، پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے، انسان کو وہ سب کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘ یہ آیات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم یہ جانیں(1) خدا کی ذات کو (2) جس نے ساری کائنات کی تخلیق کی ہے (3 ) جو بڑا کریم ہے (4) جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا (5) انسان کو وہ سکھایا جو وہ جانتا نہیں تھا۔ یعنی یہ کہ خدا کی کرشمہ سازی کو جاننا، کائنات کی تخلیق کی ضرورت اور اس کی ساری چیزوں کی کارکردگی کو سمجھنا۔ اس کے رحم و کرم کے دائرہ کو جاننا۔ قلم کے ذریعہ علم کی اشاعت کی اہمیت کو پرکھنا اور پھر اس سچائی اور حقیقت کے سامنے سر بہ سجود ہوجانا کہ انسان کو وہ سکھایا جو وہ جانتا نہیں تھا۔ کس طرح ہم جدید اور قدیم علم کے خانوں میں خود کو تقسیم کرکے خدا کے ذریعہ دی جانے والی تعلیم کو اصلی روپ میں حاصل کرسکتے ہیں۔
یعنی یہ کہ علم کا دائرہ کار پتھروں کی سرگوشیوں، پھولوں کی خوشبوؤں، سمندروں کی موجوں کی زبان کو سمجھنے کا نام علم ہے۔ گویا عربی، انگریزی، ہندی، سنسکرت، فارسی یعنی جتنی زبانیں کائنات میں بولی، لکھی، گائی اور گنگنائی جاتی ہیں سب کچھ علم میں شامل ہے۔ چڑیاں کیوں چہچہاتی ہیں اور ایسا کرکے وہ کیا کہتی ہیں؟ چاند، تاروں، کہکشاؤں، ایٹموں کی گردش کی آواز میں کس کی تعریف ہوتی ہے؟کس کا شکر بجالایا جاتا ہے، ان سب کی جان کاری کا نام علم ہے۔ زمین وآسمان یعنی پوری کائنات میں جتنی چیزیں ہیں، سب کے سب اپنی ساخت کے اعتبار سے حمد و ثنا کے ساتھ خدا کی عبادت کرتی ہیں اور ان سب کو اپنی اپنی نماز اور ذکر و اذکار کی پوری پوری جان کاری یا انہیں ان سب کا علم ہے۔ اگرچہ ان کے ذکر و نماز کو انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔ ان تمام باتوں کو سمجھنا علم ہے۔
(اَلَمْ تَرَ اَنِّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُصٰفّٰتٍ ط کُلّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتُہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط وَاللّٰہُ عَلِیْم بِمَایَفْعَلُوْنَ(۴۱) سورہ النور 24آیت نمبر 41۔
تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ ط وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا (۴۴)سورہ بنی اسرائیل 17، آیت نمبر 44
مذکورہ بالا باتوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ علم کا میدان اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اسے محدود کرنا نہ صرف یہ کہ ناانصافی ہوگی، بلکہ اس کے اصل مطلب سے دانستہ طور پر گریز کرنے کے مترادف ہوگا، اسی لیے خدا حکم دیتا ہے کہ اس کی تخلیق،زمین و آسمان کی بناوٹ اور ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب پر غور و فکر کرلے تاکہ خدا کی کرشمہ سازیوں کا اسے علم ہوسکے اور اپنے دل کی آنکھوں سے خدا کی تخلیق کا مشاہدہ کرسکے۔ یہ سب کچھ صرف اس حالت میں ممکن ہے کہ جب انسان ان تمام اشیاء کے بارے میں علم رکھتا ہو۔ گویا کہ کائنات میں موجود تمام اشیاء کے بارے میں مکمل جانکاری، ان تمام اشیاء کی بناوٹ و کارکردگی کی مفصل معلومات کا نام علم ہے۔
جدید تعلیم اور قدیم تعلیم کے معاملہ کو ذرا اس مثال سے سمجھیں اور فیصلہ کریں کہ جدید تعلیم کون سی ہے اور قدیم تعلیم کسے کہیں گے۔ مثال کے طور پر ’’سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ سورج کی اپنی روشنی ہے، مگر چاند کی خود کی روشنی نہیں ہے۔‘‘ اور یہ تحقیق سائنس کی چند سو سال قبل کی ہے، مگر اس بات کو قرآن شریف نے سورہ یونس نمبر10 اور آیت نمبر 5میں کچھ اس طرح ارشاد فرمایا ہے:
( ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابِ ط مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْن)
’’اللہ ہی ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کو منور کیا اور اس کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کا حساب لگا سکو۔‘‘ اس آیت کریمہ میں چاند کو ’’منور‘‘ کہا گیا ہے۔ روشن نہیں، منور کوئی شے دوسرے سے روشنی لے کر ہوتی ہے۔ اس کی خود اپنی روشنی نہیں ہوتی۔
اب یہ سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ سورج کی اپنی روشنی تو ہے، مگر چاند سورج سے روشنی لے کر چمکتا ہے۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حقیقت ایک ہی ہے۔ یعنی سورج کا خود روشن ہونا اور چاند کا سورج سے روشنی لے کر منور ہونا۔ ایک ہی حقیقت کا انکشاف دونوں ذرائع اطلاع سے ہوتا ہے۔ یعنی قرآن سے اور سائنس سے بھی، مگر قرآن کریم نے اس بات کی اطلاع ساڑھے چودہ سو سال قبل دیدی، جب کہ سائنس نے اس حقیقت کا پتہ صرف چند سو سال ہی قبل لگایا ہے۔ مگر اس کا حوالہ اگر سائنس سے دیا جاتا ہے یا کوئی سائنس داں جب کہتا ہے کہ ’’سورج کی اپنی روشنی ہے، مگر چاند کی روشنی سورج کی وجہ سے ہے‘‘ تو ایسے سائنس داں کو جدید تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے، مگر جب کوئی مولوی صاحب قرآن کے حوالہ سے اسی سچی بات کو دہراتے ہیں تو یہ کہا جاتا ہے کہ ’’کیا دقیانوسی کی بات کی جاتی ہے‘‘ جب کہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ سائنس قرآن کی اطلاع سے کئی سو سال پیچھے ہے، لہٰذا یہ اطلاع بذات خود جدید یا قدیم نہیں ہے، کیوں کہ تعلیم جدید یا قدیم نہیں ہوتی۔ تعلیم صرف تعلیم ہے اور بے پایاں کنار ہے، لامحدود ہے، اس لیے اس کی تعریف بھی لامحدود ہے۔ اس کا پھیلاؤ زمین و آسمان کی وسعت تک ہے، اس لیے ہمیں زمین و آسمان اور ان کے اندر کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کرنی چاہیے اور ہر زبان و تہذیب، ثقافت کی اطلاع تعلیم ہے اور ہر طرح کی اطلاع تعلیم ہے۔
اب یہ سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ سورج کی اپنی روشنی تو ہے، مگر چاند سورج سے روشنی لے کر چمکتا ہے۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حقیقت ایک ہی ہے۔ یعنی سورج کا خود روشن ہونا اور چاند کا سورج سے روشنی لے کر منور ہونا۔ ایک ہی حقیقت کا انکشاف دونوں ذرائع اطلاع سے ہوتا ہے۔ یعنی قرآن سے اور سائنس سے بھی، مگر قرآن کریم نے اس بات کی اطلاع ساڑھے چودہ سو سال قبل دیدی، جب کہ سائنس نے اس حقیقت کا پتہ صرف چند سو سال ہی قبل لگایا ہے۔ مگر اس کا حوالہ اگر سائنس سے دیا جاتا ہے یا کوئی سائنس داں جب کہتا ہے کہ ’’سورج کی اپنی روشنی ہے، مگر چاند کی روشنی سورج کی وجہ سے ہے‘‘ تو ایسے سائنس داں کو جدید تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے، مگر جب کوئی مولوی صاحب قرآن کے حوالہ سے اسی سچی بات کو دہراتے ہیں تو یہ کہا جاتا ہے کہ ’’کیا دقیانوسی کی بات کی جاتی ہے‘‘ جب کہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ سائنس قرآن کی اطلاع سے کئی سو سال پیچھے ہے، لہٰذا یہ اطلاع بذات خود جدید یا قدیم نہیں ہے، کیوں کہ تعلیم جدید یا قدیم نہیں ہوتی۔ تعلیم صرف تعلیم ہے اور بے پایاں کنار ہے، لامحدود ہے، اس لیے اس کی تعریف بھی لامحدود ہے۔ اس کا پھیلاؤ زمین و آسمان کی وسعت تک ہے، اس لیے ہمیں زمین و آسمان اور ان کے اندر کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کرنی چاہیے اور ہر زبان و تہذیب، ثقافت کی اطلاع تعلیم ہے اور ہر طرح کی اطلاع تعلیم ہے۔
علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے
ہم چاروں اہم الفاظ (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم پر ضروری بحث کرچکے ہیں۔ ان الفاظ کو ذہن میں رکھ کر تمام قارئین حضرات باقی ’’خاص‘‘ مضمون قرآن، سائنس اور کائنات کے اہم ذیلی عنوانات پر سیر حاصل گفتگو کو ذہن میں رکھ کر مذکورہ بالا چاروں الفاظ کے آپسی رشتوں کو بروئے کار لا کر مضامین کے مواد کو سمجھ کر قرآن کریم میں اپنے اعتماد کو مزید پختہ کریں گے اور اپنے ایمان و عمل میں ’’جلا‘‘ حاصل کریں گے۔
راقم الحروف گزشتہ تینوں مضامین اس بات کو سامنے رکھ کرکہ ’’علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے‘‘ اپنے ناقص خیال کا اظہار کرتا آیا ہے۔ میرے بے حد محترم اور عزیز و کرم فرماؤں نے یہ سوال کیا کہ آپ نے جو اپنے مضمون کا عنوان دیا ہے ’’علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے‘‘ وہ کیا مناسب عنوان ہے، کیا آپ کا یہ اپنا نظریہ ہے یا کہیں سے اس بات کی تائید میں آپ کچھ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ میں نے ان تمام بہی خواہوں اور بیدار مغزوں سے نہایت خاکساری سے یہ عرض کیا کہ یہ اتنی اہم بات ہے کہ مجھ جیسے مبتدی کی زبان سے یہ کہاجانا اپنی سکت کے باہر کی بات ہے، بلکہ ایسا تصور یا خیال شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب کے ترجمہ کی تفسیر سے پیدا ہوا۔ جہاں انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 30 سے 33 کی تشریح میں یا تفسیر میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ علم کی فضیلت عبادت پر ثابت ہے۔ مولانا محمود الحسن صاحب نے ترجمہ کیا ہے اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب نے تفسیر لکھی ہے۔ مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی نے مترجم اور مفسر کی علمی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور اس ترجمہ اور تفسیر کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اردو زبان میں سب سے اچھا ترجمہ و تفسیر ہے اس کی طباعت و اشاعت ہونی چاہیے۔‘‘ چنانچہ سورہ بقرہ کی آیات 30 سے 33 کے ترجمہ اور تفسیر کو ذہن میں رکھیں اور واقعہ کو ٹھیک سے سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ بات بالکل ظاہر اور ثابت ہوجائے گی کہ ’’علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے‘‘ پہلے ہم ان آیات کا ترجمہ پڑھیں پھر تفسیر اور تب اس نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کریں کہ حقیقتاً علم کی فضیلت عبادت پر پوری طرح ثابت ہے۔
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلآءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِل’‘ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ہ۳۰ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلآءِکَۃِ لا فَقَالَ اَنْبِءُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ھآؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ہ۳۱ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ہ۳۲ قَالَ یٰٓاَدَمُ اَنْبِءْھُمْ بِاَسْمَآءِہِمْ ج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْ لا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لا وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْن’’اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں زمین پر ایک نائب بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ تو زمین پر اس کو پیدا کرتا ہے جو فساد کرے اس میں اور خون بہائے۔ اور ہم پڑھتے رہتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو۔ فرمایا بے شک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔ اور سکھلادئے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے۔ پھر فرمایا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو۔ بولے پاک ہے تو، ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا بے شک تو ہی ہے۔ اصل جاننے والا حکمت والا۔ فرمایا کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی۔ چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔‘‘ مذکورہ بالا ترجمہ کے بعد جو تفسیر بیان کی گئی ہے، وہ کچھ اس طرح ہے۔
’’حق تعالیٰ نے حضرت آدم کو ہر ایک چیز کا نام مع اس کی حقیقت اور خاصیت کے نفع اور نقصان کے تعلیم فرما دیا اور یہ علم ان کے دل میں بلاواسطۂ کلام القاء کردیا کیوں کہ بغیر اس کمال علمی کے خلافت اور دنیا پر حکومت کیوں کر ممکن ہے۔ اس کے بعد فرشتوں کو اس حکمت پر مطلع کرنے کی وجہ سے ملائکہ سے امور مذکورہ کا سوال کیا گیا کہ اگر تم اپنی اس بات میں کہ تم کارِ خلافت انجام دے سکتے ہو اور سچے ہو تو ان چیزوں کے نام و احوال بتاؤ۔
’’لیکن فرشتوں نے اپنے عجزو قصور کا اقرار کیا اور خوب سمجھ گئے کہ بغیر اس علم عام کے کوئی خلافت کا کام زمین پر انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت آدم سے جو تمام اشیائے عالم کی نسبت سوال ہوا تو فر فر سب امور فرشتوں کو بتا دئے۔ تمام فرشتے دنگ رہ گئے اور حضرت آدم احاطۂ علمی پر عش عش کرنے لگے۔ تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ کہو ہم نہ کہتے تھے کہ ہم جملہ پوشیدہ امور آسمان و زمین کے جاننے والے ہیں اور تمہارے دل میں جو باتیں موجود ہیں، وہ بھی سب ہم کو معلوم ہیں۔‘‘ مولانا نے تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’اس سے علم کی فضیلت عبادت پر ثابت ہوئی۔ دیکھئے عبادت میں فرشتے اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ معصوم ہیں، مگر علم میں چونکہ انسان سے کم ہیں اس لیے۔ مرتبہ خلافت انسان ہی کو عطا ہوا۔ اور ملائکہ نے بھی اس کو تسلیم کرلیا۔ اور ہونا بھی یونہی چاہیے کیوں کہ عبادت تو خاصۂ مخلوقات ہے۔ خدا کی صفت نہیں، البتہ علم خدائے تعالیٰ کی صفت اعلیٰ ہے اس لیے قابل خلافت یہی ہوئے کیوں کہ ہر خلیفہ میں اپنے ’’مستخلف عنہ‘‘ کا کمال ہونا ضروری ہے۔
علم اور عبادت کے مابین ایک واضح خط موجود ہے۔ بشرطیکہ علم کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھا جائے، ایسا کرنے پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ علم کے ذریعہ ہی اللہ کو زیادہ اچھی طرح جانا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ علم ہی وہ واحد راستہ ہے، جس پر چلنے والا کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا ہے اور وہ سیدھے راستہ پر چل کر خدا کو پاسکتا ہے۔ علم کی سب سے بڑی معراج یہ ہے کہ وہ انسان کی زندگی کو صحیح سمت میں چلنے کے لیے راہیں پیدا کردیتا ہے۔ علم ہی کے ذریعہ خدا کی ان کرشمہ سازیوں کو سمجھا جاسکتا ہے، جس کے بعد انسان اپنی زندگی کو ٹھیک اسی ’’ڈگر‘‘ پر ڈال دیتا ہے، جس پر چل کر اللہ کو پالیتا ہے۔ یہی علم کی معراج ہے، یہی خدا کی کتاب کا پیغام ہے۔
مشہور عالم دین مولانا کلب صادق صاحب نے مورخہ 15 نومبر 2010 کو ’’ژی سلام‘‘ پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ نے مجھے علم پھیلانے کے لیے بھیجا ہے۔‘‘ مولانا نے آگے فرمایا ’’مسجد سے زیادہ اہمیت تعلیم گاہ کو ہے، کیوں کہ مسجد آپ بناتے ہیں، مگر تعلیم آپ کو بناتی ہے۔‘‘ ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا کلب صادق نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ’’صحابۂ کرام مسجد نبوی میں دو الگ الگ گروپ میں تشریف فرما تھے۔ ایک گروپ ذکر و عبادت میں مشغول تھا ۔ دوسرا گروپ فکر و مراقبہ میں، غور و فکر میں مشغول تھا۔ حضورؐ نے دوسرے گروپ میں شرکت کی جہاں غور و فکر اور علم کی بات ہورہی تھی، اس واقعہ کو رقم کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ علم کا مرتبہ بہرحال عبادت سے بڑا ثابت ہے۔
قارئین حضرات سے درخواست ہے کہ اس مضمون کے بعد جو قسط نمبر 5 کی شکل میں ’’چوتھی دنیا‘‘ میں ذیلی مضامین کا سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے، ان تمام کو سمجھنے کے لیے، ذہن نشین کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چاروں الفاظ قرآن، سائنس، کائنات اور علم کو ذہن میں رکھیں۔ یہ تمام مضامین ایک دوسرے سے چین کی طرح منسلک ہوں گے۔ ترتیب وار اور لگاتار تمام مضامین کو بغور پڑھنا اور ذہن نشین کیے رہنا ضروری ہوگا۔
جو ذیلی عنوانات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جائیں گے، وہ مندرجہ ذیل ہوں گے اور وہ تمام مضامین سائنس کے ذریعہ ثابت شدہ تحقیق اور فکر پر منحصر ہوں گے اور ان تمام سائنسی انکشافات و تحقیق، جن کی اطلاع قرآن کریم میں موجود ہے، ان کے حوالے پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ سائنس نے بے شمار میدانوں میں بے پناہ کامیابی حاصل کی ہے اور بے شمار سائنس داں خوش قسمت ہیں اور قابل مبارک باد ہیں، جن کو خدا نے اپنی بے پناہ کرم فرمائیوں کے ذریعہ ان کو وہ سکھایا جو وہ پہلے جانتے نہیں تھے، اسی لیے بہت سے سائنس داں کائنات کے راز کو جاننے کے بعد خدا کے سامنے سر بہ سجود ہوگئے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اس کائنات کو تخلیق کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔
1 ۔ سورج کی اپنی روشنی ہے چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے
http://en.wikipedia.org/wiki/Albert_Einstein
2 ۔البرٹ آنسٹائن کے نظریہ کے مطابق کائنات کی ساری چیزیں ختم ہوجائیں گی صرف ایک اللہ کی ذات گرامی باقی رہے گی۔ اس کا جاہ و جلال قائم دائم رہے گا
3 ۔ سائنسی اعتبار سے قیامت کے قریب سورج پچھم سے نکلے گا
4 ۔ سمندر میں آگ لگ جائے گی
5 ۔ لڑکا یا لڑکی کی پیدائش میں (جنس) میں ماں کا کوئی رول نہیں ہوتا ہے صرف باپ کا رول ہوتا ہے
6 ۔ سورج بے نور ہو کر پھیلے گا اور زمین چاند، عطارد، زہرہ، مریخ وغیرہ کو آکر دبوچ لے گا
7 ۔ ٹیلی ٹرانسپورٹیشن کے ذریعہ پلک جھپکتے ہی انسانوں یا وزنی سے وزنی چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیاجاسکے گا، انسان گویا اپنی پہلی جگہ پر جائے گا اور دوسری جگہ حاضر ہوجائے گا
8 ۔ انسان یا کوئی بھی جاندار جو کچھ بولتا ہے یا کام انجام دیتا ہے، ان سب کی آوازیں اور شکلیں زمین پر ریکارڈ ہورہی ہیں اور ان تمام آوازوں اور شکلوں کو سنا و دیکھا جائے گا
9 ۔ بے جان چیزوں سے جاندار چیزیں پید اہوتی ہیں اور جاندار سے بے جان چیزیں، اسی طرح مردہ زمین سے جاندار چیزیں جنم لیتی ہیں۔ انسان قیامت کے دن اسی طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اس طرح کے لگ بھگ ایک ہزار سے بارہ سو مضامین ایسے ہیں جو بہ یک وقت سائنس اور قرآن دونوں سے درست اور سچ ثابت ہوتے ہیں۔
خدا کرے آنے والے تمام مضامین قارئین کے لیے مفید ثابت ہوں اور ان کے لیے دین و دنیا کی فلاح کا باعث ہوں۔
(جاری)
’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے موضوع پر سلسلہ وار مضامین میں چار اہم الفاظ، قرآن، سائنس، کائنات اور علم کو سمجھنے کی ہم کوشش کرچکے ہیں اور محترم قارئین حضرات خاص مضمون کی جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کے لیے پوری طرح ذہنی اعتبار سے تیار ہیں۔ اس لیے ضروری یہ ہوجاتا ہے کہ دو اور اہم نکتہ کو اپنے ذہن میں بالکل صاف کرلیں وہ یہ ہیں کہ:
1 ۔ قرآن کریم میں جو نکتے مذکور ہیں وہی حتمی ہیں۔ سائنس تو سالوں سال کی محنت اور تحقیق کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچ کر یا ثابت کر کے یہی کہتی ہے کہ ’’سائنس ایک اصول یا نظریہ ہے‘‘، ’’سائنس جو کچھ کہہ رہی ہے وہ ریسرچ اور تحقیق کی بنیاد پر درست اور سچ ثابت ہوتی ہے‘‘ سائنس کے ذریعہ ایسا کرنے یا کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ سائنس کی تصدیق شدہ بات ہی درست ہے، کیوں کہ کبھی کبھی سائنس کی تحقیق اور اس کی ریسرچ خود اپنی دوسری نئی تحقیق کی بنیاد پر بدل جاتی ہے۔ اس لیے سائنسی نتائج کو حتمی شکل نہیں دی جاسکتی ہے، لیکن جو نتیجہ قرآنی آیات کی روشنی میں بھی درست ثابت ہوتا ہے، وہی نتیجہ درست اور آخری ہے۔ قرآن میں جن باتوں کا حوالہ یا ذکر ہے وہی بات آخری اور دائمی طور پر سچ اور درست ہے۔ اس لیے سائنس کسی بات کو سچ ثابت کرنے میں کامیابی سے ہم کنار ہو یانہیں، وہ اس کی اپنی قسمت اور کارنامہ پر مبنی ہے۔ مگر قرآن میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ بغیر کسی چوں و چرا کے درست، سچ اور حرف آخر ہے، کیوں کہ وہ بات خدا کے کلام میں مذکور ہے اور خدا کا کلام کبھی بھی غلط ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ یہی مکمل ایمان اور اعتماد و اعتقاد کا ’’جزء لاینفک‘‘ ہے۔ لیکن سائنسی اعتبار سے بھی وہ باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں اگر ثابت ہوجاتی ہیں تو کمزور ’’اعتبار‘‘ کو بہت زیادہ مضبوطی مل جاتی ہے، کیوں کہ وہ ذہن و دماغ جہاں بداعتمادی، بدگمانی یا غیریقینی کا ڈیرہ ہو اس میں یقین کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ تعلیم کے تمام شعبوں میں ’’سائنس‘‘ کا مرتبہ اس لیے زیادہ اور اہم ہے کہ سائنس ہمیشہ سچائی اور حقیقت کی تلاش میں سرگرم عمل ہے۔ سائنس عملی طور پر ثبوت اور دلیل کے ساتھ کسی دعویٰ کو درست یا غلط ثابت کرتی ہے اور انسانی عقل و ذہن کو ثبوت و دلیل ضرور چاہیے۔ خدا نے کلام پاک میں بے شمار جگہوں پر فرمایا ہے کہ ’’قرآن کریم میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ خدا نے عقل کا استعمال کرنے، فکر کرنے، سوچنے اور تجزیہ کرنے کا نہ صرف حکم دیا ہے، بلکہ زمین وآسمان کی ساخت، اس کی بناوٹ اور عمل کرنے کے طور طریقوں پر غور کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ سائنس داں غور و فکر کرتے ہیں۔ تحقیق و تجزیہ کرتے ہیں اور سچائی تک پہنچ کر اصول و نظریہ قائم کرتے ہیں، اسی لیے زیادہ تر سائنس داں ’’موحد‘‘ یعنی ایک خدا کو ماننے والے ہوئے ہیں۔ خدا کا فرمان ہے
( اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ہلا ج ۱۹۰ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار)
’’زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات و دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں(وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) پروردگار یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے، اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔‘‘(سورہ آل عمران، 190-191 )
یعنی یہ کہ اہل خرد اللہ کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں اور اس ذات لامحدود کے ابدی علم، قوت اور صناعی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر انہیں یاد رکھتے ہیں اور ان پر غور و فکر کرتے ہیں، اس لیے کہ اللہ کا علم بے پایاں کنار ہے اور اس کی تخلیق ہر نقص سے پاک ہے۔ عقل و فہم رکھنے والوں کے لیے اس کے گرد پھیلی ہوئی ساری چیزیں خدا کی تخلیق کی نشانی ہیں۔ پوری کائنات خدا کی صناعی کی مرہون منت ہے۔ اسی کائنات (Cosmos) کے مطالعہ کا نام سائنس ہے اور حکمت ہے۔ جو صرف حقیقت اور سچائی کی تلاش کرتی رہتی ہے، مگر سائنس کا صرف وہ علم سچا ہے، جو قرآن میں موجود آیات کی روشنی کے حصار میں ہے۔ اس کے باہر کی کوئی چیز چاہے سائنس نے وقتی طور پر سچ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے تو سچ ہو ہی نہیں سکتی ہے۔ ویسے اللہ ہمیشہ صنم خانوں سے کعبہ کو پاسباں دے کر یہ واضح کرتا رہتا ہے کہ صرف ایک اللہ سچ ہے اور قائم و دائم ہے۔ باقی سب فانی ہے، جیسا کہ البرٹ آئنسٹائن نے اپنی تھیوری ’’مکان و زمان‘‘ یعنی ’’Theory of relativity‘‘ کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ دنیا یا کائنات کی ساری چیزیں ختم ہوجائیں گی، مگر ایک ہی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس اہم بات کو قرآن کریم نے یوں فرمایا ہے ’
’(کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ہجصلے ۲۶ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِِ )
سب(کے سب) جو اس(زمین) پر ہیں فنا ہوجائیں گے۔ اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب ذو الجلال و اکرام کا۔‘‘(دیکھیے سورہ رحمن 55 آیت نمبر 26-27 ) اسی لیے سائنس کی اس تحقیق کو ہم سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ، کیوں کہ البرٹ آئنسٹائن نے اپنے فلسفہ اور ریاضی دونوں کے ذریعہ اس بات کو عقل و شعور والوں کے لیے ثابت کیا ہے۔ جو سمجھ رکھتے ہیں اور قرآن کی آیت کے ٹھیک مطابقت میں ہیں۔ یہ جواب ان لوگوں کے لیے سائنسی ثبوت کے ساتھ ہے جو نعوذ باللہ خدا کی ذات گرامی کے وجود اور اس کے ’’حی و قیوم‘‘ ہونے سے روگردانی کرتے ہیں۔
اللہ اپنی بے شمار نشانیاں سائنسی تحقیق کے ذریعہ اس کائنات کو دکھاتا جارہا ہے، جس سے آخر کار عقل و شعور رکھنے والے اس بات کے قائل ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی ذات گرامی اس کی نشانیوں کے ذریعہ ہر جگہ موجود ہے۔ سائنسی تحقیق جسے یہ ابھی تک میسر نہیں ہوا ہے کہ وہ قرآن کی آیات کی روشنی کی کسوٹی پر بھی کھری اترے، اسے صاحب عقل و شعور درست ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، کیوں کہ قرآنی اطلاعات ہی صرف سچ ہیں۔ آج کے دور میں حساس، لطیف و نازک سائنسی آلات کے ایجاد ہونے سے سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی سے کائنات کی تفصیل سامنے آرہی ہے۔ آج وہ آیتیں زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آرہی ہیں جس کی اطلاع اللہ نے ساڑھے چودہ سو سال قبل ہی عنایت فرمادی تھی اور فرمایا کہ
( وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَھَا ط وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ہع ۹۳ )’’کہہ دیجیے کہ ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ وہ تم کو عنقریب ایسی نشانیاں دکھا دے گا کہ سمجھ جاؤگے۔‘‘(سورہ النمل 27، آیت نمبر 93)
اسی لیے دورِ حاضر کے وہ سائنس داں جنہیں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کا موقع ملتا ہے، وہ حیرت زدہ ہوجاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ جو اطلاع ہم جدید آلات کے ذریعہ اب حاصل کر رہے ہیں، وہ سب کچھ ایک امی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ساڑھے چودہ سو سال قبل کیسے معلوم ہوگئیں؟ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی جدید آلات اور معتبر ترین جدید تحقیق ’’کلام پاک کو زیادہ اچھی طرح سمجھنے میں ہماری معاون ہیں۔‘‘ ہمارے ایمان و یقین کو اور زیادہ ’’جلا‘‘ بخشتی ہیں اور کمزور عقیدہ والوں کو یقین کی دولت سے مالا مال کرتی ہیں۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اب تک یا چند عشرہ قبل تک قرآن کریم کے جو تراجم یا تفسیر ہمارے سامنے دستیاب ہوسکیں وہ بے حد اہم اور بے پناہ قابل قدر ہیں۔ علمائے کرام نے جو بھی ترجمہ یا تفسیر بیان فرما دیا وہی حرفِ آخر ہیں۔ ان تفسیروں سے متصادم کوئی بھی اطلاع، نظریہ یا سائنسی تحقیق و ریسرچ اور ان پر مبنی نتائج قابل قبول نہیں ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ تراجم اور تفسیر مستند علمائے کرام کے ذریعہ انجام دی گئی ہیں، مگر اس سے بھی بہت زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان عظیم شخصیتوں نے تراجم اور تفاسیر کا عظیم کارنامہ صرف علمی اعتبار سے انجام نہیں دیا، بلکہ اس عظیم کارنامہ میں جو ان شخصیتوں کی روح کی پاکیزگی اور اپنے اعمال اور کردار کا تقدس خدا سے خوف اور ان کی پاک دامنی شامل تھی، ان سب خصوصیتوں نے تراجم اور تفاسیر کو نہ صرف شبہ سے پاک، معتبر اور حتمی بنا دیا بلکہ عالم انسانیت کے لیے ایک لاثانی اور لافانی ورثہ بنادیا۔ ٹوٹی چٹائیوں، پھٹی بوریوں، پیوند لگی ٹوپیوں، کرتوں اور عماموں میں ملبوس ’’ولی‘‘ صفت علماء تہجد کی چٹائیوں پہ بیٹھ کر، خدا کو حاضر و ناظر جان کر ایک ایک زیر و زبر اور حرف کے اعتبار سے ترجمہ کرتے تھے اور نمازوں میں گڑگڑا کر اس رب کریم سے استطاعت اور کرم مانگتے تھے کہ ’’بار الٰہ تیرے کلام کا ترجمہ کرنے جارہا ہوں اور تفسیر لکھنے جارہا ہوں اس لیے اے رب کریم، غلطیوں سے پاک تراجم اور تفاسیر کی سکت عطا فرما۔‘‘ اسی لیے ان تفاسیر میں ایک بے مثال پاک جذبہ اور صدق دلی موجزن ہے اور خامیوں یا لغزشوں سے پاک ہے۔ علماء و مفتیان کرام کی للہیت کے جذبہ سے شرا بور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی کوئی بھی متضاد نظریہ ان تفاسیر پر فوقیت نہیں رکھتا ہے، بلکہ ایسا نظریہ باطل ہے۔ ایسی تفسیروں اور تراجم میں مندرجہ ذیل معترکۃ الآرا کارنامہ شامل ہیں اور ہم اپنے تمام ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان پر مبنی مضامین کو مندرجہ ذیل تفسیروں کی کسوٹی پر ہی کسیں گے اور اس بات کی جد و جہد کریں گے کہ صرف وہ مضامین یا عنوانات جو پوری طرح قرآن کریم یا احادیث سے مطابقت رکھتے ہیں، انہیں کو پیش کریں ایسی تفاسیر میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
1 ۔ الفوز الکبیر فی علم التفسیر(اردو ترجمہ دستیاب ہے) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ
2 ۔ تفسیر القرآن العظیم، علامہ ابن کثیر
3 ۔ تفسیر عزیزی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
4 ۔ تفسیر ماجدی(جدید مغربی مفکرین کے اعتراضات کے جواب کے طور پر) مولانا عبدالماجد دریابادی
5 ۔ جواہر القرآن(اردو) علامہ طنطاوی جوہری مصری
6 ۔ مولانا احمد رضا خاں کی تفسیر
7 ۔ بیان القرآن، مولانا اشرف علی تھانوی
8 ۔ مولانا اصلاحی کی تفسیر
9 ۔ تفہیم القرآن، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
10 ۔ تذکیر القرآن، مولانا وحید الدین خان
11۔ ترجمان القرآن، مولانا ابوالکلام آزاد
12 ۔تشریح القرآن، مولانا عبدالکریم پاریکھ
13 ۔ مولانا فراحی کی تفسیر
اور ان سب سے مطابقت رکھنے والی دیگر تفاسیر۔ دنیا میں تقریباً تمام اہم زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم و تفاسیر موجود ہیں، وہ سب کے سب بنیاد ہیں اور معتبر پیمانہ ہیں، انہیں کی کسوٹی پر سائنسی تحقیقات کو کھرا اترنا ہوگا۔ سائنسی تحقیق، تجزیہ، ریسرچ اور ثابت شدہ قدیم و جدید کارنامہ جو ان تفاسیر کے دائرہ میں اپنی جگہ اور مقام حاصل کرپاتے ہیں، وہی قابل قبول ہیں اور قابل اعتماد و یقین۔ باقی تمام سائنسی اطلاعات کو انہیں کے دائرہ میں آنے کے لیے اپنا تحقیقی کام جاری رکھنا ہوگا اور اپنا مقام قرآن و حدیث کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔ تبھی اسے اعتبار اور قبولیت حاصل ہوگی ورنہ نہیں۔ (جاری)
علماء کرام نے قرآن کریم کی تفسیر اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہر زمانہ میں کی ہے اور نئے نئے سوالات کا جواب کتاب اللہ کی روشنی میں اس طرح دیا ہے کہ زمانہ نے ہمیشہ عش عش کیا ہے۔ اس کے باوجود کوئی یہ دعویٰ کرے کہ فلاں کی تفسیر یا تشریح حرف آخر ہے یا یہ کہ اب کسی تفسیر کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ بڑے بڑے علماء نے ہر طرح کے مسائل پر سیر حاصل تشریح کردی ہے تو یہ دعویٰ حقیقت کے برخلاف ہوگا، کیوں کہ سوالات ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اس وقت کی ضرورت کے مطابق پیدا ہوتے رہیں گے یا پیدا کیے جاتے رہیں گے، اس لیے کسی بھی مفسر کے زمانہ کے مطابق ہی سوالات کے جوابات دئے گئے ہیں، یعنی مستقبل کے وہ سوالات جو حال میں نہ پیدا ہوئے نہ سامنے آئے، ایسے سوالوں کے جواب تو مستقبل کے مفسر یا شارح اور علماء کرام ہی دے سکیں گے، کیوں کہ مسائل تو مستقبل کے علماء کے سامنے پیدا ہوں گے گویا کہ سوالات کا سلسلہ اور نئے نئے چیلنجز کا ماحول ہمیشہ باقی رہے گا اور عقیدہ کے مطابق ہمیشہ جواب بھی نئے نئے دئے جاتے رہیں گے، لہٰذا ہر زمانہ کے عالموں، مفتیوں، دانشوران قرآن کو زمانہ کے مطابق جواب ڈھونڈھتے رہنا ہوگا۔ یہی قرآن کا ایک او ر عظیم معجزہ ہے کہ ہمیشہ سوال کرنے والوں کو ’’سیری‘‘ حاصل ہوتی رہے گی۔ یعنی کلام اللہ ہر وقت کے مسائل کا حل پیش کرتا رہے گا۔ سوالوں کے جواب کا یہ ’’سوتا‘‘ کبھی خشک ہونے والا ہی نہیں ہے۔
اس لیے کوئی یہ یقین کرے کہ نہ نئے سوالات پیدا ہوں گے، نہ نئے چیلنجز قرآن کے سامنے ہوں گے، نہ نئے جوابات کی ضرورت پڑے گی، نہ کوئی نیا سوال ہی پیدا ہوگا۔ ایسا سوچنا یا یقین کرنا خود حقیقت قرآن اور حدیث کے برخلاف ہے، کیوں کہ خود سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث میں ارشاد فرمایا ہے، جس کو محدث طبرانیؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اس کتاب کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے اور یہ بار بار پڑھنے کے باوجود پرانی نہیں ہوگی۔‘‘ اسی لیے یہ کہا جاتا ہے اور یقین کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید معانی، مطالب اور حقائق و معارف کا ایک ایسا لامتناہی سمندر ہے، جس کے نہ معانی اور نہ مطالب کی کوئی حد ہے اور نہ اس کے حقائق و معارف کی کوئی انتہا ہے۔ یہ کتاب اللہ علم و عرفان کا ایک بے پایاں کنار ’’گنجینہ‘‘ ہے، یہ رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت ہے، بے مثال دستورالعمل ہے، جس میں کبھی بھی کسی طرح کی ترمیم کی ضرورت نہیں پڑے گی، مگر معجزاتی طور پر تمام مسائل کے حل موجود ملیں گے۔ دنیا کی تمام کتابیں معانی اور مطالب کے اعتبار سے پرانی ہوجاتی ہیں، مگر جس کتاب کے معانی اور تراجم جب تک ترو تازہ اور نئے ہوتے ہیں، وہی کتاب تب تک ترو تازہ اور نئی کہلاتی ہے اور ایسی ہی کتاب زندہ جاوید رہتی ہے۔ یہ مرتبہ صرف کتاب اللہ کو حاصل ہے۔ اس لیے ہر نئی آنے والی صورت میں قرآن مجید کے احکام کو اس پر منطبق کرنے کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔ ہر نئے سوال کا جواب دینے کے لیے قرآن مجید کی آیات کی تعبیر و تفسیر کی ضرورت پڑتی رہے گی اور قرآن کے معجزات کا خزانہ کبھی بھی کم نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مفسرین کو اپنے سے پہلے کے معتبر مفسرین کے کام کی موجودگی اور اس کی غیرمعمولی اہمیت کے باوجود نئی تفسیری کاوشوں کی بجا طور پر ضرورت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح ہر صدی اور ہر دور میں قرآن کریم کے مفسرین کو نئی نئی تفسیریں نئے نئے ماحول میں لکھنے کی ضرورت ہوتی رہے گی، جیسا کہ گزشتہ زمانہ میں بھی ہوتا رہا ہے، کیوں کہ جو راز اب آشکار ہورہے ہیں، جو نئے نئے سوالات اب پیدا ہو رہے ہیں، وہ پہلے کے مفسرین کے سامنے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل حالات اور سوالات کو سامنے رکھا جاسکتا ہے کہ:
(1) ڈی این اے کا پتہ سائنس دانوں نے 1950 میں لگایا اور اس پر کام کرنا شروع کیا گیا۔ ڈی این اے کی تھیوری نے اس نظریہ کو بالکل بے بنیاد ثابت کردیا کہ انسان کے آباؤ اجداد ’’بندر تھے‘‘ کیوں کہ ڈی این اے کا نظریہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی پیدائش یا تخلیق ٹھیک اسی طرح ہوتی ہے جس طرح قرآن بتاتا ہے۔
(2) ایڈون ہیبل کو 1929 میں ٹیلسکوپ یا دوربین کے ذریعہ پتہ چلا کہ کائنات بہت تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اور اجرام فلکی ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں، اس کا حوالہ قرآن کریم میں موجود ہے اور ایڈون ہیبل کا نظریہ قرآن کے عین مطابق ہے۔
(3) 1980 میں BIGBANG یعنی عظیم دھماکہ کا نظریہ سامنے آیا اور عظیم سائنسدانوں رالف الفر(Ralph Alpher)، ہنس بیتھ(Hans Bathe )، جیورگیمو( Georgamow) وغیرہ نے یہ کہا کہ اس ’’کائنات‘‘ اور ’’وقت‘‘ کی تخلیق ایک عظیم دھماکہ سے ہوئی اور اس بات کے لیے مذکورہ بالا سائنس دانوں نے البرٹ آئنس ٹائن کے اس نظریہ کو بنیاد بنایا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’کائنات کو لازمی طور پر بڑھتے جانا ہے۔‘‘ اس کا بھی تذکرہ کلام اللہ میں دستیاب ہے کہ آسمان کو خدا نے اپنی قدرت سے بنایا اور اس میں وسعت ہوتی جارہی ہے۔
(4 ) 1880 میں انگریز سائنس داں نے ’’انگوٹھوں‘‘ کے نشان پر پہلی بار مضمون لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی اور جو بعد میں سائنسی اعتبار سے سچ ثابت ہوئی کہ کسی بھی انسان کے انگوٹھوں کے نشانات کسی دوسرے انسان کے انگوٹھوں کے نشانات سے کبھی بھی پوری دنیا میں نہیں مل سکتے ہیں، اس کا سرا قرآن کریم کی آیت سے جا کر ملتا ہے۔
(5 ) 1950 میں دمچی(Coccyx) کی تحقیق پر سائنسداں Hans Spemann کو نوبل انعام دیا گیا کہ یہ انسان کے جسم کا وہ حصہ ہے جو کبھی بھی کسی بھی حالت میں نہ تو گلتا ہے نہ سڑتا ہے، نہ جلتا ہے۔ پھر 2001 میں ڈاکٹر عثمان الجیلانی اور شیخ عبدالماجد الزندانی نے یمن کے شہر صفاء میں ثابت کیا کہ یہ دمچی انسان کے جسم میں زندہ جاوید عضو ہے، اس کا حوالہ حدیث پاک میں موجود ہے۔ اسی دمچی کو قیامت کے روز مخصوص بارش کا پانی ملے گا تو جس انسان کی دمچی ہوگی، وہی انسان زندہ ہو کر خدا کے حضور حاضر ہوگا۔
(6 ) 1981 میں دمام یونیورسٹی سعودیہ عربیہ میں ڈاکٹر کیتھ مور، مورس بکالے، تاگاسین کے نظریہ نے اس بات کو آشکار کیا کہ ماں کے پیٹ میں بچہ جن سات مرحلوں میں پرورش پا کر پید اہوتا ہے، اس کا حوالہ قرآن کریم کے سورہ مومنون میں موجود ہے۔
(7) 1960 میں زمینی علوم کے ماہرین نے یہ ثابت کیا کہ پہاڑ زمین کو ثبات عطا کرتا ہے اور وہ کھونٹی کی طرح زمین کے اندر اور باہر پیوست ہے۔ یہ پہاڑ زمین کو لڑھکنے سے روکتے ہیں، یہی قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔
(8) 1980 میں پتہ چلا کہ ایک مہلک مرض ایسا ہے، جو لاعلاج ہے اور اس کا نتیجہ انسان کی موت ہے۔ اس لاعلاج مرض کو ’’ایڈز‘‘ کہتے ہیں۔ حدیث سے ثابت ہے کہ انسان جب بے راہ ہو کر غلط کاری کرے گا تو ایسی متعدی بیماری پیدا ہوگی جو لاعلاج ہوگی۔
(9) سائنسی اعتبار سے ہر مادی چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اس طرح منتقل کیا جاسکتا ہے کہ وہ چیز اپنی پہلی جگہ سے فنا ہوجائے گی اور لاکھوں کروڑوں میل کی دوری پر پلک جھپکتے موجود ہوجائے گی، اس میں سائنس نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس نظریہ یا عمل کو ٹیلی ٹرانسپورٹیشن کہتے ہیں۔ اس کا حوالہ بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔
مذکورہ بالا مثالوں سے صرف ایک بات عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن زندہ و جاوید کتاب اللہ ہے۔ یہ عوام الناس کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اس کتاب کو دوام اور ثبات حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات میں جتنے مسائل اور نتائج پیدا ہوتے رہیں گے اور ملتے رہیں گے ان سب کا حل اس کتاب سے ملتا رہے گا۔ مگر مسائل کا حل تو تب ملے گا، جب ان کا حل بھی اس کتاب میں موجود ہوگا۔ قرآن کا دعویٰ ہے اور ہمارا اعتماد و اعتقاد ہے کہ تمام مسائل اور سوالوں کا جواب اسی کتاب میں موجود ہے اور یقیناًموجود ہے تو ہمیں پتہ کیسے چلے گا؟ اس کا جواب ہے غور و فکر سے، تدبر سے، علم سے، تحقیق سے، ایمان سے اور قوت عمل سے۔
اس مضمون میں نمبر ایک سے 9 تک جن نکتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سب تو سمندر کے ایک بوند کی بھی حیثیت نہیں رکھتے ہیں، کیوں کہ سوالات و مسائل تو بے پایاں کنار سمندر کی طرح وسیع و عریض ہیں۔ صرف چند مثالوں کے ذریعہ میں نے کوشش کی ہے کہ قاری حضرات اس بات کی طرف اپنی توجہ مبذول کریں کہ مسائل جو بھی ہوں حل قرآن کریم ہی ہے۔ سوالات جو بھی ہوں جواب کلام اللہ ہے، اس لیے نئے ماحول، نئے سوالات اور نئے چیلنجز کے جواب کے لیے قرآن کریم کو اسی پس منظر میں پڑھ کر جواب تلاش کرنا ہوگا، لہٰذا جن علماء اور مفسرین کے سامنے مسائل در پیش ہیں، حل انہی کے زمانہ میں قرآن کی روشنی میں ڈھونڈھنا ہوگا۔ آج کازمانہ سائنس اور ٹکنالوجی کا ہے۔ جیسے جیسے زمین و آسمان کی چیزوں کے بارے میں ان کی کارکردگی کے بارے میں علم ہوتا جارہا ہے، اسی کے تناسب میں وہ سوالات پیدا ہورہے ہیں، جو آج سے چند عشرہ قبل نہیں تھے، اسی لیے موجودہ زمانہ کے سوالات کے جوابات کو کھوجنے کی ضرورت ہے۔
’’ترقی‘‘ تو سائنسی نظریہ اور تحقیق کو ہی کرنا ہے۔ انسان کی زندگی میں سائنسی حقائق و نظریات کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔ اسی کی چھاپ پوری زندگی پر پڑنی ہے۔ سائنس ہی ایسے مسائل بھی پیدا کرتی ہے جن کے حل کی ضرورت فوراً پیش آتی ہے اور حل بھی ایسا پیش کرتی ہے جو سائنسی اعتبار سے بالکل درست تحقیق شدہ ہوتا ہے،ا سی لیے عقل و دماغ، شعور و فکر کے پیمانہ پر بھی وہ پوری طرح قابل قبول ہوتا ہے۔ یہ سائنس کا کمال ہے اور جواب قرآن سے ملتا ہے۔ یہی کلام اللہ کا معجزہ۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ خدا نے خود حکم دیا ہے کہ تم زمین و آسمان کی مسافت کے بارے میں غور و فکر کرو۔ اس کام کو سائنس کر رہی ہے، یعنی یہ کہ سائنسی دور میں مسائل بھی سائنسی پیدا ہوتے ہیں، اس لیے جواب کو بھی سائنسی ہی ہونا چاہیے اور جواب ہمیں کلام اللہ سے حاصل کرنا ہے، جو بلاشبہ موجود ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سائنسی فکر و نظر کے ساتھ سائنسی علوم کا بھی ملکہ حاصل ہو۔ بس مسئلہ کا حل مل جائے گا، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کریم کی مکمل تعلیم ہو۔ سائنسی تحقیقات و ریسرچ پر پوری طرح پکڑ ہو، چونکہ سوالات ’’سائنسی نئی تحقیقات‘‘ پیدا کر رہی ہیں، اس لیے ان تحقیقات کے نوک و پلک سے واقفیت ہو، یہ لازم ہے۔ سائنس پوری کائنات کے پوشیدہ راز کو تحقیق و ریسرچ کے ذریعہ آشکار کرتی ہے۔ ان رازوں کو جاننا سمجھنا، ان پر غور و فکر کرنا، خدا کی کرشمہ سازیوں کو سمجھنے میں مددگار ہے۔ خدا تک یہی کرشمہ سازی پہنچاتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے اتھاہ علم کی ضرورت ہے۔ ٹھیک، فعال اور پاک علم کے ذریعہ خدا تک رسائی ممکن ہے۔ اچھی عبادت علم سے جلا پاتی ہے۔ یہی علم صراط مستقیم تک لے جاتا ہے۔ خدا کا دیدار کراتا ہے اور برگزیدہ بندہ بناتا ہے۔ اسی علم کی بدولت آدمؑ کو خدا کا خلیفہ بناتا ہے۔ جسے اس کائنات پر خدا کی حکمرانی کے لیے بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ اللہ کے قرآنی حکم کو بحرو بر، زمین و آسمان میں پھیلائے، تاکہ علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ثابت ہو اور خدا کی ذات و صفات کو سمجھنے کے لیے علم سے مدد طلب ہو، علم ہی واحد ’’چشمہ‘‘ ہے، جس سے خدا کی ذات گرامی کو سمجھنے کی روشنی ملتی ہے اور انسان کی تخلیق کا مقصد سمجھ میں آتا ہے۔ اب تک ترتیب سے تمہید کے طور پر پیش کردہ چھ مضامین اگر قاری اپنے ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں تو آئندہ شماروں میں Main مضمون ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے تحت شائع ہونے والے ذیلی مضامین آسانی سے سمجھ میں آئیں گے اور مفید ثابت ہوں گے۔ پھر سے اللہ کا نام لے کر اصل مضمون کی طرف اگلے شمارہ سے اپنےسفر کی طرف چلتے ہیں۔ خدا سے استطاعت عطا کرنے کی دعا ہے۔
سائنس ان رازوں کو آشکار کرتی ہے جو خدا کی نشانیاں ہیں۔ اس سے صاحب ایمان کو غور و فکر کا نایاب موقع میسر ہوتا ہے اور وہ اعتماد و یقین کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہو کر خود کو خدا کے قریب کرلیتا ہے۔ جس قدر سائنسی اطلاعات سے رغبت بڑھتی جاتی ہے خدا کی کرشمہ سازیاں عیاں ہوتی جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے، جب بندہ یہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا یہ سب کچھ تونے بے کار اور بے فائدہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان تمام صناعی میں تیری کبریائی کا ظہور ہے، اسی لیے خدا نے زمین و آسمان کی ساخت میں غور و فکر کا حکم دیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں سورہ آل عمران آیت نمبر 190-191 )
( اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ہلا ج ۱۹۰ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ہ۱۹۱ )سائنس داں چونکہ حقیقت پسند اور محقق ہوتے ہیں، اس لیے سچائی تک پہنچنے کی وجہ سے وہ خدا تک پہنچتے ہیں اور دل و دماغ دونوں سے اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ زیادہ تر سائنس داں خدا میں یقین رکھنے والے ہوئے ہیں۔ اگر نہایت سچائی سے یوروپ میں سائنسی ترقی کے زمانہ کو سامنے رکھیں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں جدید سائنس کی ترقی خدا پر ایمان کے ساتھ ہوئی ہے۔ اس کو ’’سائنسی انقلاب‘‘ کا زمانہ بھی کہتے ہیں۔ خدا پر ایمان رکھنے والے سائنس دانوں کی ایک لمبی فہرست ہے، اس لیے کہ ان تمام سائنس دانوں کا اولین مقصد خدا کی پیدا کردہ کائنات اور اس میں کار فرما قانون فطرت کا پتہ لگانا اور دریافت کرنا تھا۔ برطانیہ، فرانس وغیرہ کے بہت سے سائنس دانوں نے تو کائنات میں پنہاں رازوں کو دریافت کر کے خدا تک رسائی کا عزم کر رکھا تھا۔ یہ رجحان 18 ویں صدی عیسوی تک برقرار رہا۔ بہت سے سائنس داں ایسے ہیں، جن کو پہچانا ہی اس لیے جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے ایسے سائنسی کارنامے انجام دئے جو بذات خود ’’قرب الٰہی کے اعلانیہ عزم کا اظہار ہے‘‘۔ ایسے سائنسدانوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں: نیوٹن، کیپلر، گلیلیو، پاسکل، پالے، کوپرنیکس، بیکسن، آئنسٹائن وغیرہ ایسے سائنس داں گزرے ہیں، جنہوں نے ایمان باللہ کے جذبے سے سائنسی تحقیق و جستجو کی، جس کی تحریک انہیں ان کے ایمانی جذبہ سے حاصل ہوئی تھی۔ وہ سب کے سب خدا کی ذات میں یقین رکھتے تھے، انہیں ہر نئی تحقیق اور نتیجہ کے بعد خدا کی بے پناہ طاقت اور فرماں روائی کا اعتماد زیادہ پختہ تر ہوجاتا تھا۔
مذہب اور سائنس کے درمیان مصنوعی فرق کو سائنسی دریافتوں نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔ مذہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ اس دعویٰ کو سائنس نے کئی ثبوت کے ذریعہ ثابت کردیا ہے۔ بے شمار سائنس داں ایسے گزرے ہیں، جن کے قلب و نظر کو وسعت مذہب کے مطالعہ سے ملی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اہم سائنسی انکشافات کا مظاہرہ کیا۔ ان لوگوں نے سائنس اور مذہب کے مابین بے حد مطابقت اور گہرے رابطہ کو ثابت کیا اور اس طرح دنیائے انسانیت کی بے پناہ خدمت کی۔ ان میں سے چند کا ذکر کریں گے، جس سے اس موقف کو تقویت ملے گی کہ سائنس نے مذہب کی خدمت کی ہے اور اس طرح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
1 ۔ آئزک نیوٹن، جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا نظریہ کائنات خود نیوٹن کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے۔ ’’سورج، ستاروں اور دمدار تاروں کا حسین ترین نظام ایک ذہین ترین اور اتنہائی طاقتور ہستی کی منصوبہ بندی اور غلبے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ وہی ہستی تمام موجودات پر حکمرانی کر رہی ہے، جس کی عمل داری اور اقتدار میں سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہ اس امر کا استحقاق رکھتا ہے کہ اسے خدائے عظیم و برتر اور ہمہ گیر حکمراں تسلیم کیا جائے۔‘‘ (بحوالہ پرنسپیا، نیوٹن، سیکنڈ ایڈیشن)
نیوٹن اپنی دوسری مشہور کتاب ’’پرنسپیا میتھمیٹکا‘‘ میں یوں لکھتا ہے’’وہ(خدا) لافانی، قادر مطلق، ہمہ گیر، مقتدر اور علیم و خبیر ہے، یعنی وہ ازل سے ابد تک رہے گا، ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ہمہ وقت موجود ہے، تمام مخلوقات پر حکمرانی کرتا ہے اور ان سب کاموں کو جانتا ہے جو کرنے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسے بقائے دوام حاصل ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر مقام پر حاضر و ناظر ہے۔ ہم اس سے اس کی بے مثال صناعی اور اس کی پیدا کردہ اشیاء میں کمال کی جدتوں کی وجہ سے متعارف ہوتے ہیں۔ ہم اس کے عاجز بندے ہیں اور تہہ دل سے اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ سر آئزک نیوٹن۔ میتھمیٹکل پرنسپل آف نیچرل فلاسفی)
اسی طرح جرمن کے مایۂ ناز ماہر ریاضی و فلکیات کیپلر(Kepler) کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے سائنسی کارنامے اس کے مذہبی رجحانات کے مرہون منت تھے۔ کیپلر ایک صاحب ایمان سائنس داں تھا۔ بطور سائنس داں کیپلر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کائنات خالق حقیقی کی پیدا کردہ ہے۔ کیلپر سے یہ پوچھنے پر کہ وہ سائنس داں کیوں بنے تو انہوں نے جواب دیا ’’میں عالم دین بننا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن اب میں نے اپنی کوششوں سے معلوم کرلیا کہ خدا کیسا ہے، علم فلکیات میں بھی تحقیق سے مجھ پر یہ بات آشکار ہوئی کہ یہ آسمان خدا کی عظمت و جلال کا اقرار کر رہے ہیں۔‘‘
تہران یونیورسٹی ایران کے پروفیسر مہدی گلشانی یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کے ماہر طبیعات ہیں۔ انہوں نے ’’نیوز ویک‘‘ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں خدا پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے یوں کہا ہے ’’سائنسی تحقیق مذہب کی توثیق و تصدیق کا ذریعہ بن رہی ہے۔‘‘ ، ’’مظاہر فطرت، کائنات میں خدا کی نشانیاں ہیں۔ ان کا مطالعہ کرنا اس لحاظ سے ایک مذہبی فریضہ بن جاتا ہے۔ قرآن انسانوں کو زمین میں سفر و سیاحت کی تلقین کرتا ہے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اس نے تخلیق کا کیسے آغاز کیا۔‘‘، ’’تحقیق کرنا خدا کی عبادت کرنے کی طرح ہے، کیوں کہ اس سے عجائب تخلیق کا انکشاف ہوتا ہے۔‘‘(نیوز ویکلی جولائی27 ،1998 ، صفحہ 49 )
لوئس پاسچر خدا پر پختہ ایمان رکھتا تھا۔ اس نے ڈارون کے نظریے کی سخت مخالفت کی تھی، اس کی وجہ سے لوئس پاسچر کو شدید تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ وہ سائنس اور مذہب میں مکمل ہم آہنگی کے قائل تھے۔ ان کے الفاط میں ’’میرا علم جتنا بڑھتا ہے، میرا ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا جاتا ہے۔ سائنس کی تعلیم کی کمی انسان کو خدا سے دور لے جاتی ہے اور علم کی وسعت اور گہرائی اسے خدا کے قریب پہنچا دیتی ہے۔‘‘(بحوالہ Jean Guitton, Dieu Etla Science)
البرٹ آئنسٹائن پچھلی صدی کا دنیا کا اہم ترین سائنس داں گزرا ہے اور وہ خدا میں یقین رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ شہرت میں تھا، وہ اس نظریہ کا حامی تھا کہ سائنس مذہب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں البرٹ آئنسٹائن کے الفاظ یہ تھے ’’میں ایسے سائنس داں کا تصور نہیں کرسکتا جو گہرے مذہبی رجحانات نہ رکھتا ہو۔ شاید میری بات اس تمثیل سے واضح ہوجائے کہ مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے۔‘‘ دیکھئے Science, Philosophy and Religion۔ آئنسٹائن کا پختہ یقین تھا کہ کائنات کا منصوبہ اتنی زبردست ہنرمندی سے بنایا گیا ہے کہ اسے کسی طرح بھی اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسے یقیناًایک خالق نے بنایا ہے، جو اعلیٰ ترین حکمت و دانش کا مالک ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اکثر خدا پر ایمان کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا کہ کائنات میں حیرت انگیز فطری توازن پایا جاتا ہے جو غور و فکر کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، اس نے اپنی ایک تحریر میں کہا ہے’’ہر سچے محقق کے اندر گہرے مذہبی رجحانات پائے جاتے ہیں۔‘‘
ایک بچہ نے آئنسٹائن کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا سائنس داں دعا کرتے ہیں؟ اس بچے کے خط کے جواب میں آئنسٹائن نے لکھا ’’جو شخص سائنس کے مطالعے اور تحقیق کی راہ اپناتا ہے، اسے اس امر کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ قوانین فطرت میں واضح طور پر ایک روح موجود ہے، یہ روح انسانی روح سے بلند تر ہے۔ اس طرح سائنس کا مشغلہ انسان کو ایک خاص قسم کے مذہبی جذبے سے سرشار کردیتا ہے۔‘‘(بحوالہ Jan 24, 1936 Einstein Archive 42-601)
عظیم سائنس دانوں میں سرجیمز جینزکا شمار بھی نہایت احترام سے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نامور ماہر طبیعات تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کو دانش و حکمت کے مالک نے تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے’’ہمیں اپنی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے یایہ اس کنٹرولنگ پاور کی تخلیق ہے جو ہمارے ذہنوں کے ساتھ کچھ اشتراک رکھتی ہے۔‘‘ سرجیمز جینز نے آگے کہا ہے کہ ’’کائنات کے سائنسی مطالعے کا نتیجہ مختصر ترین الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا ڈیزائن کسی خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا۔‘‘(ملاحظہ فرمائیں سرجیمز جینز کی کتاب دی مسیٹریس یونیورس، نیویارک)
اسی طرح ورنہر وان بران (Wernher Von Branu) دنیا کے چوٹی کے سائنس دانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ ایک ممتاز جرمن راکٹ انجینئر تھے۔ یہ ناسا(امریکی خلائی ادارہ تحقیق) کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ یہ پختہ ایمان رکھنے والے سائنس داں تھے۔ انہوں نے ’’فطرت کی تحقیق و منصوبہ بندی‘‘ کے موضوع پر چھپے ایک جریدہ کے پیش لفظ میں لکھا تھا کہ ’’انسان بردار خلائی پرواز ایک حیرت انگیز تجربہ ہے، لیکن اس سے یہاں تک پہنچنے والے انسان کے لیے خلا کی پر جلال وسعتوں میں جھانکنے کے لیے ایک چھوٹا سا در کھلا ہے۔ جو کائنات کے بیکراں اسرار میں جھانکنے کے لیے محض ایک سوراخ ہے۔ اس سے ہمارے اس عقیدے کو تقویت پہنچتی ہے کہ کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ میرے نزدیک اس سائنس داں کو سمجھنا بہت مشکل بات ہے جو اس کائنات کے وجود کے پیچھے کار فرما اعلیٰ ترین حکمت و دانش کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو، اسی طرح اس مذہبی شخص کو بھی سمجھنا بہت مشکل امر ہے جو سائنس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے۔‘‘(بحوالہ ہینری ایم مارس، مین آف سائنس مَین آف گاڈ ماسٹر بک 1992 ، صفحہ 85)
پروفیسر البرٹ کومبس ونسیو نے کہا ہے’’سائنسی تحقیق خدا پر ان کے یقین کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ آج میں نہایت مسرت سے کہہ رہا ہوں کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سالہا سال کے تحقیقی کاموں کے نتیجے میں خدا پر میرا ایمان متزلزل ہونے کی بجائے مستحکم تر ہوگیا ہے اور اب پہلے کی نسبت مضبوط تر بنیادوں پر استوار ہوچکا ہے۔ سائنس نے اس عظیم ترین ہستی کے بارے میں انسان کی بصیرت کو گہرائی بخشی ہے اور یہ اس کی قدرت کاملہ پر ایمان بڑھاتی ہے اور ہر نئی دریافت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔‘‘(دیکھیے: The Evidence of God in an expanding universe-P-191)
اس طرح کے بے شمار سائنس داں ہیں جو خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی تمام تحقیق میں خدا کا عکس پاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سائنسی معلومات کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں پڑھیں۔ قرآن کے اندر بے شمار ایسے معجزات ہیں جو ’’راز پنہاں‘‘ کی طرح ہیں، ان رازوں کا آشکار ہونا صرف سائنسی تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ ممکن ہے، اسی لیے سائنس تمام اہم تجزیے اور ریسرچ قرآنی نکات کو سمجھنے میں معاون اور مددگار ہے۔ سائنس قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں، بلکہ سمجھنے میں مددگار ہے، جو خدا کی ذات گرامی تک کا سفر کراتی ہے اور ایمان کو پختہ کرتی ہے۔ (جاری)
اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان تعلق کسی بھی ایک جگہ یا ایک وقت میں یکساں نہیں رہا ہے، مگر یہ ایک امرواقعہ ہے کہ کسی توحید پرست مذہب میں کوئی ایسی تحریر موجود نہیں ہے، جو سائنس کو رد کرتی ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں چرچ کے حکم کے مطابق سائنسی علوم کا حصول اور اس کی جستجو گناہ قرار پائی تھی۔ سائنسی علوم چرچ کے حکم سے مسترد کردئے گئے اور ان کا حصول جرم قرار پایا۔ زندہ جلا دینے کے ڈر سے بہت سے سائنس داں جلاوطنی کرنے پر مجبور کردئے گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو توبہ کرنا پڑی اور اپنے رویہ کو تبدیل کر کے معافی کا خواستگار ہونا پڑا۔ مشہور سائنس داں ’’گلیلیو‘‘ پر اس لیے مقدمہ چلا کہ اس نے اس نظریہ کو مان لیا تھا جو زمین کی گردش کے بارے میں ’’کوپرنکس‘‘ نے پیش کیا تھا۔ بائبل کی ایک غلط تاویل کے نتیجہ میں ’’گلیلیو‘‘ کو سزا دی گئی۔ دیکھیے ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ از ڈاکٹر مورس بوکائلے صفحہ 20-21 ۔ حالانکہ تمام انبیاء کسی نہ کسی تکنیک میں ماہر تھے۔ حضرت نوح کی کشتی سازی، حضرت سلیمان کے تعمیراتی کارنامے، حضرت داؤد کی زرہ سازی تاریخ سے ثابت ہے، اسی لیے قرآنی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ سائنس کی موجد اسلام کی ’’مواحدانہ‘‘ تہذیب ہے۔ مصر، بابل، یونان اور روما کی مشرکانہ تہذیبیں ہرگز سائنس کی موجد نہیں ہیں۔ یونانی، محسوسات اور تجربہ کی دنیا سے کس قدر بیگانہ تھے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ارسطو دوبیویوں کا شوہر ہونے کے باوجود لکھتا ہے کہ ’’عورت کے منہ میں 38 دانت اور مرد کے منہ میں 32 دانت ہوتے ہیں۔‘‘ جو حقائق کے بالکل بر خلاف ہے۔ دوسری طرف علوم کی تحقیق کے لیے تجربات پر اعتماد کرنا عربوں نے دنیا کو سکھایا ہے۔ سائنس عربوں کا سب سے عظیم الشان عطیہ ہے۔ جس نے یوروپ اور اس کی ہمنوا تہذیب کو یکسر بدل دیا اور بے حد دھنی کردیا۔ عرب کی تہذیب نے یوروپ کے شب و روز کو بدل کر سائنسی اور تجرباتی دنیا سے آگاہ کیاا ور یوروپ کو اس پر ناز رہا ہے جب کہ اسلام مخالفین یہ افواہ اڑاتے رہے ہیں کہ اسلام سائنس اور علوم جدید کا مخالف ہے۔ اس کے ثبوت میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ بیسویں صدی سائنس کے ایجادات و انکشافات و ترقی کی صدی ہے، اس لیے موجودہ ترقی یافتہ دور میں چودہ سو سال پرانا نظام اسلام قابل عمل نہیں ہے۔ گویا ان کے خیال میں اسلام اور سائنس دو متضاد چیزیں ہیں اور ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام کے مخالفین اس کے ماننے والوں کو رجعت پسند اور خود کو ترقی پسند بتاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا تعلق صرف مسجد اور خانقاہ سے ہے۔ روزمرہ کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن یہ ناعاقبت اندیش بھول جاتے ہیں کہ ہر معقول آدمی یہ تسلیم کرتا ہے کہ ’’یقینی علم دو ذریعوں سے حاصل ہوتا ہے ایک وحی اور دوسرا سائنس۔ حضرت آدمؑ جو سطح زمین پر پہلے انسان ہیں، کو ان دونوں ذرائع سے علم دیا گیا۔ ایک طرف ان کو پیغمبر بنایا گیا اور وحی کا یقینی علم دے کر دنیا میں اتارا گیا اور دوسری طرف چونکہ ان کو اس دنیا میں وقت گزارنا تھا اور اللہ کی نیابت جیسے اہم فریضے کو انجام دینا تھا، اس لیے ان کے لیے سائنسی علوم کے سرچشمے بھی کھول دئے گئے، ان دو ذرائع کے علاوہ ’’یقینی‘‘ علم کے کسی تیسرے ذریعہ کو نہ اسلام تسلیم کرتا ہے اور نہ سائنس۔ علم الاسماء کی تعلیم سے مراد یہی سائنس کی تعلیم ہے۔‘‘ اللہ نے آدم کو فرشتوں کے مقابلہ امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے تمام موجودات کا علم عطا کردیا تھا اور حضرت آدمؑ نے تمام اشیاء کے نام ان کی تمام خصوصیات کے ساتھ خدا کے سامنے ارشاد فرمائے تھے۔ اسی علم اسماء کو ہم آج کی جدید سائنس کے نام سے جانتے ہیں۔ گزشتہ مضمون میں یہ بات آچکی ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو تمام علوم عطا کردیے اور سکھایا اور بقول شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب آدمؑ نے ان تمام چیزوں کے نام ان کی خصوصیت، صناعی اور ان کے تمام لوازمات کے ساتھ فرشتوں کے سامنے پیش فرما دئے۔ ان تمام اشیاء کے نام اور وضاحت آج جدید سائنس کی بنیاد کہے جاسکتے ہیں۔
اس لیے یہ سوچنا یا دعویٰ کرنا کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے یا دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ کہ اسلام ایک قدیم مذہب ہے، جو موجودہ زمانہ کی ضرورتیں پوری نہیں کرسکتا ہے۔ ایسا کہنا یا سوچنا غلط ہے اور بے بنیاد ہے، کیوں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا مودودی جدید سائنس کے حوالہ سے لکھتے ہیں ’’قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے آسمان زمین کے رتق وفتق اور پانی سے ہر زندہ چیز کے پیدا کیے جانے اور تاروں کے ایک ایک فلک میں تیرنے کا مفہوم کچھ اور تھا۔ موجودہ زمانے میں طبیعیات، حیاتیات اور علم ہیئت کی جدید معلومات نے ہمارے لیے ان کا مفہوم کچھ اور کردیا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ آگے چل کر انسان کو جو معلومات حاصل ہونی ہیں، وہ ان الفاظ کے کن معانی پر کیا روشنی ڈالیں گی۔‘‘ (دیکھیے تفہیم القرآن جلد سوئم، سورہ الانبیاء، حاشیہ 35 )
دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنس بذات خود قرآنی آیات میں پنہاں سائنسی رموز کو سمجھ کر اور پتہ لگا کر اپنے کو سرخرو محسوس کرتی رہے گی اور خدا کی کرشمہ سازیوں کو بیان کرکے دھنی ہوتی رہے گی۔ قرآن کریم کی آیات میں پنہاں بے شمار رموز سائنسی تحقیق اور ریسرچ سے آشکار ہوتے رہیں گے۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ ’’یوروپ کو قرآن نے سائنسی، معاشیاتی، سیاسی، معاشرتی اور ادبی تصورات دئے، یہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان میں تقریباً ایک ہزار عربی الاصل الفاظ رائج ہیں اور کئی ہزار ان کے مشتقات ہیں۔‘‘ کیوں کہ عربی زبان میں دستیاب سائنسی اور تحقیقی علوم سے یوروپ نے خود کو بے پناہ مستفیض کیا تھا۔
ہارورڈ یونیورسٹی’’تمدن کی کہانی‘‘ میں کہا گیا ہے کہ ’’اہل مغرب نے کوشش کی ہے کہ وہ قرآن اور اس کے اصولوں کو مسخ کر کے، توڑ مروڑ کر، غلط بیانی اور غلط تعبیر کر کے اور غیر صحیح شکل میں پیش کریں جب کہ ’’تاریخ انسانیت‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’قرآن کے بغیر جدید یوروپی تمدن قطعاً نہ ابھرتا اور بغیر قرآن کے یہ وہ رخ اختیار نہ کرتا جس نے یوروپ کو اس قابل کیا کہ وہ ارتقاء کے تمام پہلوؤں اور ادوار پر سبقت لے گیا۔‘‘
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ’’اگر قرآن نہ ہوتا تو جدید یوروپی تہذیب پیدا ہی نہیں ہوئی ہوتی اور یہ قطعی اور یقینی ہے کہ یوروپی تہذیب ایسی نوعیت اختیار نہ کرسکتی جس کی وجہ سے وہ ارتقا کی تمام ماقبل منزلوں سے آگے بڑھ گئی ہے، کیوں کہ اگرچہ یوروپ کی نشو و نما کا کوئی ایک پہلو ایسا نہیں ہے، جس میں ثقافت اسلامی کے قطعی اثر کا سراغ نہ مل سکے، لیکن اس کا نہایت واضح اور مہتم بالشان ثبوت یہ ہے کہ یوروپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی جو دنیائے حاضر کی اعلیٰ ترین امتیازی قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے یعنی طبعی سائنس اور سائنسی روح ہے۔‘‘ اور یہ سب کچھ یوروپ کو دستیاب ہوا قرآن کے شیدائیوں کے تحقیقی کاموں سے۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیائے اسلام کے فرماں روا، بغداد، شیراز، قرطبہ، دمشق وغیرہ کے حکمراں ذہنی ثقافت کے لازوال خزانوں اور ان کی مسرتوں کو اپنے درباروں کی بہترین شوکت و عظمت خیال کرتے تھے۔ اس امر کی کوئی مثال نہ پہلے موجود تھی، نہ اب تک ہے کہ کسی وسیع سلطنت کے طول و عرض میں حکمراں طبقے اتنے بڑے پیمانے پر حصول علم کی مجنونانہ خواہش سے سرشار ہوگئے ہوں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حصول علم ان کے لیے زندگی کا خاص مقصد بن گیا۔ خلیفہ تھے، کتب خانے تھے، رسد گاہیں تھیں، وہ اپنے امور سلطنت اور فرصت کے مشاغل سے غفلت برت لیتے تھے، لیکن اہل علم کے خطبات کو سننے اور ان سے مسائل سائنس و ریاضی کے متعلق مذاکرات کرنے میں ہرگز کوتاہی نہیں کرتے۔ مسودات، مخطوطات و نباتاتی نمونوں سے لدے ہوئے کارواں بخارا سے دجلہ تک اور مصر سے اندلس تک رواں دواں رہتے تھے۔ صرف کتابوں اور معلومات کے حصول کی خاطر دنیا کے تمام حصوں میں سفیر بھیجے جاتے، ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ ملحق ہوتا تھا۔ حکمراں اور امراء کتب خانوں کے قیام، مدارس کے لیے اوقاف کے انتظامات اور عرب طلباء کے لیے وظائف کے اہتمام میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے تھے۔ اہل علم کو بلاامتیاز رنگ و نسل و مذہب دوسرے سب لوگوں کو فوقیت دی جاتی تھی۔ ان پر دولت و ثروت اور اعزازات کی بارش کردی جاتی تھی، وہ ولایتوں کے حاکم مقرر کردئے جاتے۔ جب خلفاء کسی سفر یا مہم پر روانہ ہوتے تو اہل علم کا ایک گروہ اور کتابوں سے لدے ہوئے اونٹوں کی قطار ہمراہ ہوتی۔ یہ دبدبہ اور جستجو کا عالم کہ حصول علم کے لیے سلطنت کے تمام ذرائع وقف کردیے جاتے تھے۔ تحقیق و ریسرچ پر بے پناہ دولت خرچ کی جاتی تھی۔ یوروپی کتب خانوں میں سائنس، فنون اور تمام جدید خیالات، تحقیقات، دریافتوں اور دائرۃ المعارف سے متعلق عربی کے ابتدائی مخطوطات لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ سب کے سب متفقہ طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ’’8ویں صدی(عیسوی) سے 500 سال بعد تک عربی، یوروپ کی زبان تھی اور قرآن وہاں کا ضابطہ حیات رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عربی، نوع بشر کی سائنسی زبان رہی ہے۔ تمام کتابیں عربی میں لکھی جاتی تھیں۔ یوروپی حضرات جو تکمیل علم کرنا چاہتے تھے انہیں عربی سیکھنی پڑتی تھی۔ (دیکھیے: برٹش ریسرچ صفحہ 4 ، باب 1 ) ’’اس طرح قرآن اپنی روشنی غیر محسوس طریقہ سے اور خاموشی کے ساتھ تمام یوروپ میں پھیلا رہا تھا۔ قرآن کی واضح مثال اور عملی نمونہ یوروپ کی بے چین طبیعتوں میں جوش و ولولہ پیدا کر رہا تھا۔‘‘ یہ قرآن کا عظیم معجزہ تھا جسے پوری دنیا نے محسوس کیا۔ 12 ویں صدی کے فضلاء یوروپ کی سوانح عمریوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً ان سب نے قرآنی ضابطۂ حیات کو اپنا لیا تھا۔ (ملاحظہ فرمائیں: امریکن ریسرچ، صفحہ 124 )
اسی طرح جرمن ریسرچ ’’قرآن کی تفاسیر اور انشاء‘‘، ’’جدید تحقیقات‘‘ از پروفیسر ہارٹ وگ ہرشفیلڈ کا بیان ہے کہ ’’قرآن تمام علوم و فنون کا سرچشمہ تھا۔ کبھی کوئی قوم اس سرعت سے تہذیب و تمدن کی جانب نہیں بڑھی، جس سرعت کے ساتھ قرآن کے ذریعہ عربوں نے ترقی کی۔ جہاں تک قائل کرنے کی قوت، فصاحت و بلاغت اور انشاء کا تعلق ہے،ا س میں کوئی چیز بھی قرآن تک نہیں پہنچتی۔ قرآن فطرت اور اس میں ہونے والے عمومی واقعات پر غور و فکر کرنے اور اس کا گہرا مطالعہ کرنے پر بہت زور دیتا ہے۔‘‘ کائنات کی نشانیوں میں خدا کو پالینے کی ترغیب دیتا ہے۔
امریکن اور برٹش ریسرچز کے مطابق’’حاملین قرآن نے کولمبس سے پانچ سو سال پہلے امریکہ کو دریافت کرلیا تھا۔ انہوں نے (حاملین قرآن نے) سب سے پہلے ہوائی جہاز بنایا ان کا نام ابن فرناس تھا(888 ء میں) اس طرح ابن ہیشم نے (903 ء) میں دور بین ایجاد کی۔ ابن ماجہ نے بحری قطب نما ایجاد کیا۔ جس سے کھلے سمندروں میں سفر کرنا ممکن ہوسکا اور فن جراحی کو ترقی دی اور آلات جراحی بنائے۔ ابوالقاسم نے 936 ء میں عربی اعداد یعنی نوہندسوں اور صفر کو رواج دیا۔ جس سے ریاضیات میں زبردست انقلاب رونما ہوگیا۔ کاغذ سے روئی بنانے کا فن دریافت کیا اور طباعت کے کام کی ابتدا کی۔ 750 عیسوی میں بھاری ترشوں، درپیمائی، ہیئتی آلات، رسد گاہوں، گردش کرنے والے ارضی کروں، ماسکونی ترازو، کیمیاوی آلات، کروی اصطرلابوں، مشاہداتی ہیئت کو جنم دیا، اسی طرح ’’بحرالکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند سے گزرنے والے تمام سمندری راستوں کو دریافت کیا اور ا س کے نقشے بنائے۔ جوہری نظریے کو رواج دیا۔ نظریۂ ارتقا دریافت کیا۔ تجارت و کار و بار کے اصول، سیارات و ثوابت کی نورپیمائی۔ اعلیٰ درجے کے ٹھیک ٹھیک ناپنے کے آلات، گھنٹے، گھڑیاں، گشتی شفاخانے رائج کیے۔ نظام دیا، رات کے نمونے تیار کیے۔ ابن عباس نے 880 عیسوی میں پتھر سے شیشہ بنانے اور حرارت سے مرغیاں پیدا کرنے کی مشین ایجاد کی۔‘‘ واشنگٹن کے ’’کارنیجی ریسرچز‘‘ نے تحریر کیا ہے کہ ’’ہم قرآن سے سائنس کا تعلق قائم کیے بغیر اس کی (سائنس) صحیح فہم تک کیسے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے کارنیجی ریسرچز واشنگٹن، ص 18)
اسی طرح برٹش ریسرچ باب دوم صفحات 40-138 میں ذکر کیا گیا ہے کہ یونان کے لوگ نہیں بلکہ حاملین قرآن جدید سائنس کے موجد تھے۔ دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا تھی، لیکن حالیہ تحقیقات سے یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آئی ہے کہ قرآن نے معروضی قسم کی تحقیقات اور تجرباتی معلومات کو اپنے ماننے والوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ یونانیوں نے بعض نظریات قائم کیے تھے، لیکن تجرباتی معلومات کو عمومیت کا درجہ دینا یونانی مزاج کے لیے قطعاً ایک بیگانہ شے تھی۔‘‘
شکاگو یونیورسٹی ہسٹری کا بیان ہے’’انسانی تجربہ اور زندگی کا بمشکل ہی ایسا کوئی گوشہ ہوگا جہاں قرآن نے مغربی روایت کو مالا مال نہ کیا ہو۔ سائنس، مشروبات، جڑی بوٹیاں، ادویہ، اسلحہ و نقابت، صنعت و حرفت، تجارت، نقاشات و ایجادات، بحری ٹیکنیک اور جملہ اقسام کا فنی ذوق اور خوش اطواری وہیں سے حاصل ہوئیں۔‘‘
گویا کہ قرآن اور اسلامی تعلیمات سائنس کا سرچشمہ بھی اور اس کا سرپرست اعلیٰ بھی ہے۔
حوالہ جات
1 ۔ قرآن کریم
2 ۔ سائنس اور تہذیب و تمدن، ڈاکٹر حافظ میاں حقانی قادری
3 ۔ سائنس خدا کے حضور میں، طارق اقبال سوہدروی
4 ۔ قرآن اور جدید سائنس، ڈاکٹر حشمت جاہ وغیرہ
قرآنی تعلیمات نے بے شمار سائنسی رموز کی طرف رہنمائی کی ہے، اسی لیے وہ سائنس داں جو قرآن کے نکات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے، انہیں سائنسی میدان میں بڑی کامیابی ملی۔ اسی لیے یہ بات نہایت مضبوطی سے کہی جاتی ہے کہ ’’جتنی ترقی حامل قرآن لوگوں نے ایک صدی میں کی اتنی ترقی کرنے کے لیے کسی دوسری قوم کو ایک ہزار سال سے زیادہ کی مدت درکار ہوتی۔‘‘ قرآن کریم انتہائی یاس و حرماں نصیبی کے عالم میں کردار کی وہ مضبوطی، وہ استواری، ثابت قدمی، قوتِ ارادی اور تسلیم و رضا کی وہ قوت عطا کرتا ہے جو اس مسلک کے پیرؤں کی خصوصیت اور ان کا طرۂ امتیاز ہے133۔ کیوں کہ قرآن محض مراقبہ اور مطالعۂ فطرت پر ہی زور نہیں دیتا بلکہ یہ سائنسی طریقوں کے سلسلے میں بھی رہبری کرتا ہے، یہ دنیا میں سب سے پہلا ماخذ ہے، جس نے تحقیق کے استقرائی طریقے سکھائے۔ قرآن وہ بنیادی اصول بتاتا ہے کہ محض ان ہی کے سہارے طبعی سائنس میں کثرت میں یکسانیت کی دریافت ہوسکتی تھی۔ قرآن نے سائنسی تحقیق اور معلومات کے لیے بنیادی اہمیت کا وہ گراں قدر سائنسی تصور پیش کیا، جس سے اس پر عقیدہ رکھنے والوں کو اس حد تک یقین ہوگیا کہ ’’حقیقتِ تجرباتی تحقیق‘‘ حاصل کی جاسکتی ہے۔ فطرت میں وحدت، بنی نوع انسان میں وحدت، علم میں وحدت قرآن کی تعلیمات کے بنیادی اجزا ہیں، جو خدا کی وحدانیت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یوروپ آج جس سائنس پر فخر کر رہا ہے، وہ اسلامی مفکرین کی دین ہے۔ وہ دین اس کتاب اللہ کی ہے، جسے مسلمانوں نے گنوا دیا اور صرف قرآنِ ’’ممات‘‘ و ’’آخرت‘‘ مسلمانوں کے حصہ میں رہ گیا، جب کہ حیات و فطرت پر دستیاب قرآنی تعلیمات کو یوروپ نے لے لیا۔ برٹش ریسرچ نے اس سچائی کا اظہار یوں کیا ہے کہ ’’بارہویں صدی تک یوروپ کے تمام جید اور پڑھے لکھے لوگوں نے نہ صرف قرآنی احکام کا مطالعہ کیا تھا، بلکہ وہ قریب قریب عملاً مسلمان جیسے مضبوط عقیدہ رکھنے والے ہوگئے تھے۔ اسی مضبوط عقیدہ کی بنیاد پر انہوں نے فطرت کا مطالعہ کیا اور وحدانیت میں یقین پیدا کرلیا۔
جینس جینز ایک مایۂ ناز ماہر طبیعیات سائنس داں تھا۔ اس نے یہ کہا تھا کہ ’’مذہب انسانی زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے، کیوں کہ خدا پر ایمان لائے بغیر سائنس کے بنیادی مسائل حل ہی نہیں ہوسکتے۔‘‘
ماہر عمرانیات Jeans Bridge نے تو یہاں تک مان لیا کہ ’’مذہب اور روحانیت کے امتزاج سے عقیدہ و عمل کے ایک متوازن نظام کی تشکیل پر اسلام سے بہتر کوئی مذہب نہیں۔‘‘
مسلمانوں نے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کر کے اہم سائنسی ایجادات کو انجام دیا، چونکہ سائنس سچائی اور حقیقت کی تلاش کرتی ہے اور قرآن سچائی اور حقیقت کو اپنا کر خدا تک پہنچنے کا راستہ بتاتا ہے، اس لیے مسلم سائنس دانوں نے سچائی کی تلاش میں بے شمار ’’سچ‘‘ کو پالیا اور مزید حصولیابی کے لیے بہت سے ایجادات کو انجام دیا، مگر یوروپ نے عربی تصانیف کا لاطینی میں ترجمہ کرایا اور پھر اسے اپنے ناموں سے جوڑ دیا۔ بہت سے مسلم مصنفین کے ناموں کو چھپانے کے لیے ان کے ناموں کو لاطینی شکل دے دی، مثلاً:
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D9%86
1۔ جابر بن حیان کا نام ’’گیبر‘‘ کر کے اس کو یوروپ کا علم کیمیا کا باوا آدم قرار دے دیا گیا ہے۔
2 ۔ ابن ماجہ ابوبکر کے نام کو بدل کر لاطینی شکل ’’آویم پاکے‘‘ کردی گئی ۔
3 ۔ ابن داؤد کے نام کی لاطینی شکل ’’آوین دینتھ‘‘ کر دی گئی۔4۔ ابومحمد نصر(فارابی) کے نام کی لاطینی شکل ’’فارابیوس‘‘ کردی گئی۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C
5 ۔ ابوعباس احمد (الفرغانی) کے نام کی لاطینی شکل ’’الفرگانس‘‘ کردی گئی۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Ahmad_ibn_Muhammad_ibn_Kath%C4%ABr_al-Fargh%C4%81n%C4%AB
6۔ الخلیل کے نام کی لاطینی شکل ’’الکلی‘‘ کردی گئی۔
7۔ ابن رشد کے نام کی لاطینی شکل’’ایوے روس‘‘ کردی گئی۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C
8 ۔ ’’عبداللہ ابن بتانی‘‘ کے نام کی لاطینی شکل ’’باتاگینوس‘‘ کردی گئی۔
اس طرح سے بے شمار مسلم سائنس داں ایسے ہیں، جن کے نام کو بدل کر ان کے سائنسی ایجادات اور کارناموں کو اپنے نام کرلیا گیا ہے۔
مسلم سائنس دانوں نے ریاضی، فلکیات، کیمیا، ٹیکنالوجی، جغرافیہ اور طب وغیرہ میں بے شمار اور قابل ذکر تحقیقات کا کام انجام دیا ہے اور مسلمان تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں صدی تک لگاتار بڑے بڑے سائنس داں پیدا کرتے رہے۔ مندرجہ ذیل چند نامور مسلم سائنس دانوں کے نام ان کے مغربی مترادفات کے بغیر پیش کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جابر بن حیان، الکندی، الخوارزی، الرازی، ثابت بن قرہ، البنانی، حسنین بن اسحق الفارابی، ابراہیم ابن سنان، المسعودی، ابن سینا، ابن یونس، الکرخی، ابن الہیثم، علی بن عیسیٰ، البیرونی، الطبری، ابوالوحی، علی ابن عباس، ابوالقاسم، ابن الجزار، الغزالی، الزرقالی، عمرخیام وغیرہ۔
ان مایۂ ناز مسلم سائنس دانوں کے نام نہایت قلیل مدت میں ہی یعنی 750 سے 1100 عیسوی کے درمیان ہی آسمان ایجادات پر ستاروں کی طرح جگمگا اٹھے اور پوری دنیانے دیکھا کہ کس طرح مسلم سائنس دانوں نے قرآن کریم سے ہدایت پا کر نظام قدرت کے رازوں کو جاننے میں کامیابی حاصل کی۔
مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یوروپ کے ادب نے حاملِ قرآن لوگوں کے سائنسی احسان کو بڑے منظم طریقہ پر نظرانداز کرنے کی ترکیب نکال لی۔ نہ صرف اعلیٰ سائنسی ایجادات کو، بلکہ مسلمانی زندگی کے طور طریقوں، آداب و رسوم، خوش اطواریوں، پاکیزہ طرز معاشرت، ذاتی صفائی اور حفظان صحت وغیرہ کے میدانوں میں مسلمانوں کی حصولیابی اور ایجادات کو بری طرح سے مسخ کردیا یا پھر اپنے نام سے منسوب کرکے دنیا کے سامنے سرخرو ہونے کی جسارت کی۔ اس طرح مسلمانوں کی سائنسی خدمات اور تحقیقات وا یجادات پر پردہ ڈال دیا گیا، جب کہ یہ بات تاریخ کے محفوظ اوراق میں درج ہے کہ:
1 ۔ دنیا میں پہلی سائنسی پرواز ’’ابن فرناس‘‘ نے نویں صدی عیسویں میں انجام دی تھی۔ پرواز کے لیے اس نے ایسے پروں کا استعمال کیا تھا، جن سے وہ ہوا میں نہایت طویل مدت تک لمبا فاصلہ طے کرسکا تھا۔
2 ۔ دنیا کے نظام سیارگان کا پہلا نمونہ ’’ابوالقاسم‘‘ نے تیار کیا تھا۔ اس میں ستارے، بادل وغیرہ دکھائے گئے تھے۔ سورج اور چاند کی گردشوں کے اوقات بھی درج کیے گئے تھے۔
3 ۔ ’’عباس ابن فرناس‘‘ نے 9 ویں صدی عیسوی میں دنیا میں پتھر سے شیشہ بنانے کی صنعت کی دریافت کی تھی۔
4۔ ’’ابوالحسن‘‘ جو ایک اور عظیم سائنس داں تھے۔ انہوں نے قاہرہ مصر میں ’’دوربین‘‘ کی ایجاد کی تھی۔ یہ دوربین ’’مالقہ‘‘ اور ’’قاہرہ‘‘ کی رسدگاہوں میں بڑی کامیابی سے کام میں لائی جاتی تھی۔ فلکیاتی مشاہدات کے لیے اس دوربین کو کام میں لایا جاتا تھا اور گرہن، انحراف، دمدار ستارے اور دیگر سماوی حادثات و واقعات کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔
5 ۔ ’’ابوالفاروق محمد ابن اسحق ابن یعقوب الندیم‘‘ نے 996 عیسوی میں ’’علوم کے اشاریہ‘‘ پر سب سے پہلے کتاب لکھی تھی، اس کتاب میں طب، میکانیات، انجینئرنگ، ریاضیات، فلکیات، مادیت، فقہ، حدیث، سوانح عمری، تاریخ، گرامر وغیرہ اس کتاب کی فہرست میں شامل تھے۔
6 ۔ امریکہ کی دریافت کولمبس نے نہیں بلکہ اس سے 500 سال قبل حاملین قرآن عربوں نے کرلیا تھا۔ اس بات کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ’’جدید ترین ماہر بشریات‘‘ ڈاکٹر جیفر نے تصدیق کی ہے اور ثابت کیا ہے۔
7۔ ’’زمین گول ہے‘‘ چپٹی نہیں ہے۔ اس بات کی تصدیق حامل قرآن لوگوں نے بحیرۂ احمر پر ’’ایک درجہ‘‘ کی پیمائش کر کے ثابت کی تھی اور روم کے ذریعہ پیش کردہ نامعقول نظریہ کی کہ ’’زمین چپٹی ہے‘‘ کو غلط ثابت کردیا تھا۔
8 ۔ عظیم سائنس داں ’’الباقلانی‘‘ نے پہلے پہل نظریۂ اضافت پیش کیا تھا۔ عظیم ماہر طبیعیات آئن اسٹائن نے اپنی کتاب ’’بین کوکبی طبیعیات‘‘ میں ’’الباقلانی‘‘ کی بنیادوں پر ہی اپنا نظریہ اضافت وضع کیا تھا۔
9۔ قطب نما ’’امیرالبحر احمد بن ماجہ‘‘ نے ایجادکیا تھا اور انسان کے لیے کھلے سمندر میں آزادی کے ساتھ سفر کرنے کا راستہ ہموار کردیا تھا، اس ایجاد سے پہلے یونانی اور رومی جہاز رانی صرف ساحلوں تک محدود تھے۔ مصری، ایرانی، یونانی، رومی اس ایجاد سے قبل کھلے سمندر میں تجارت کی غرض سے داخل ہونے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔
10 ۔ ’’الجبرا‘‘ کا ایجاد عربوں نے کیا تھا، یہ لفظ بذات خود عربی ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا بھی ایجاد مسلم ریاضی داں نے کیا تھا۔
11۔ عظیم ماہر کیمیا ’’جابر ابن حیان‘‘ نے بال کمانی (ترازو) ایجاد کیا۔ پھر مختلف شکل کی بال کمانیوں کو رواج دے کر حاملِ قرآن لوگوں نے اس عہد کی ابتدا کی، جب کیمیا کو کلی طور پر کیفیت کا علم سمجھنا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو پانی کی میکانکی خواص اور پانی کے تجزیے کے بارے میں صحیح تصورات تھے، یہ امر کیمیا کے علم میں ایک نئے باب کا اضافہ ثابت ہوا۔ ’’جابر بن حیان‘‘ نے تیز قسم کے ’’ترشے‘‘ ماء الملوک وغیرہ بھی دریافت کیے۔
12 ۔ ’’ابن نفیس‘‘ نے ڈاکٹر سروٹیس سے تین صدی قبل یعنی 1270 عیسوی میں ہی دوران خون کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی تھی۔ ڈاکٹر سروٹیس کے سرغلط طور پر ’’دوران خون‘‘ کا پتہ لگانے کا سہرا باندھا جاتا ہے۔
13 ۔ ’’ابوالقاسم الزہراوی‘‘ نے سب سے پہلے 936 سے 1013 عیسوی کے درمیان 200 آلات جراحی کا ایجاد کیا اور خود اس کی شکل دی۔ ابوالقاسم کی کتاب ’’التصریف‘‘ کی نقل 19ویں صدی تک تمام ’’یوروپی‘‘ درسی کتابوں میں کی جاتی رہی ہے۔ یہ کتاب جراحی سے متعلق ہے، جس سے یوروپ نے استفادہ کرنا سیکھا تھا۔
14 ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا بانی ’’ابوصالح ابن داؤد ‘‘ تھا۔ اس کی بنیاد 11 ویں صدی میں ڈالی گئی تھی۔ ابوصالح ابن داؤد کے نام کو بدل کر لاطینی زبان میں ’’آوین دینتھ‘‘ کردیا گیا۔
(جاری)
حوالہ جات:
1۔ قرآن کریم
2۔ قرآن، سائنس اور تہذیب و تمدن۔ ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری
3۔ قرآن اور جدید سائنس۔ ڈاکٹر حشمت جاہ
4۔ محاضرات قرآنی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی
اسپین کے مسلمانوں نے بھی سائنس کو بے پناہ ترقی دی۔ اس میدان میں اسپینی مسلمانوں کا سائنسی کارنامہ بے مثال ہے۔ جو بڑی مدت تک کسی دیگر تہذیب میں دیکھی نہیں گئی تھی۔ وہاں کے مسلمان فلکیات، ریاضیات، طبیعیات، کیمسٹری اور طب میں ممتاز ترین اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ اسپینی مسلمان ’’ارسطو‘‘ کا بے پناہ احترام کرتے تھے، مگر انہوں نے سچی بات ببانگ دہل کہی اور ارسطو کے نظریہ کو رد کردیا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز ہے۔‘‘ اسپینی مسلمانوں نے ثبوت کے ساتھ کہا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھومتی ہے اور یہ بات آج کی ترقی یافتہ سائنس بھی اس طرح مانتی ہے کہ یہ ’’فکر‘‘ ثبوت کے ساتھ ناقابل تنسیخ بنی ہوئی ہے اور اب تو ہر انسان اپنی نظروں سے زمین کو سورج کے گرد گھومتی ہوئی دیکھتا ہے۔ مسلمان نظام شمسی سے متعلق صحیح نظریہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوسکا، کیوں کہ اسلام نے ’’پابندی فکر‘‘ کے اس ماحول کو توڑ دیا، جو انسان کے لیے ذہنی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ یہ بندشیں مصنوعی تھیں، اس کے ختم ہوتے ہی انسانی فکر کا قافلہ تیزی سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگا اور بالآخر اس مرحلہ تک پہنچا جہاں وہ ہمیں بیسویں صدی میں نظر آرہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ تحقیقات و ایجادات کے اعتبار سے سائنس کے کمالات آج اپنے پورے عروج پر ہیں سائنس دانوں نے زمین و آسمان کے موجودات پر تحقیق کی۔ جنگلوں، صحراؤں، سمندروں، پہاڑوں، آتش فشانوں، مد و جزر، زلزلے، DNA ، آسمانوں، قدرتی مناظر اور انسان و جانور کی تخلیق وغیرہ کے بارے میں اتنا زیادہ انکشاف کیا ہے اور ایسے نتائج پیش کیے ہیں کہ دنیا حیرت زدہ رہ گئی ہے اور یہ سب ایمان کی پختگی میں اضافے اور اعتماد میں مضبوطی کا سبب بن گئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علم و تحقیق کے حوالے سے یہ سائنس دان بصیرت اور فراست رکھنے والے ہر فرد کے محسن ہیں اور ان کے لیے دل میں بے اختیار تشکر اور احسان مندی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ سائنس داں خدا کے بے حد پسندیدہ ہیں، جن کو خدا نے چنا اس بات کے لیے کہ وہ ان راز کو آشکارا کرے جو خدا کی عظمت اور اس کی کبریائی کو بیان کرے، ہمارے اعتماد و یقین کو زیادہ پختگی دے سکے۔
گزشتہ مضامین میں ’’حاملین قرآن مسلم سائنسدانوں‘‘ میں سے صرف چند کے نام گنائے گئے تھے تاکہ ذہن سے یہ بات بالکل نکالی جاسکے کہ قرآن اور سائنس میں کوئی تضاد ہے۔ اگر کہیں تضاد ہے تو اس کی تحقیق اور تجزیہ کی ضرورت سائنس کو ہے، کیوں کہ کوئی بھی تحقیق یا ریسرچ جو قرآنی آیات کی مخالفت میں ہے۔ اس کا تجزیہ ہوتے رہنا ہے اور تحقیقی کام کو جاری رکھنا ہے اور یہ کام مسلم سائنس دانوں نے ہمیشہ کیا ہے، انہیں مسلم یا حامل قرآن سائنسدانوں میں سے ایک اور نام۔
ابو علی حسن ابن الہیثم کا بڑے اہتمام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان کے بے شمار سائنسی کارناموں میں سے مندرجہ عظیم الشان کامیابی ان کے نام ہیں۔ گزشتہ مضمون میں سرسری طور پر الہیثم کا نام ضرور لیا گیا تھا، مگر یہاں ذرا تفصیل سے ان کے کارنامہ کو پیش کیا جارہا ہے تاکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوسکے کہ کس طرح مسلم سائنس دانوں نے قرآن کے احکامات سے رہنمائی پا کر کارہائے نمایاں سائنس کے میدان میں دیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوسکے کہ مسلم سائنسدانوں کے ایجادات پر کس طرح لوگوں نے قبضہ کر کے یوروپ کے سائنس دانوں کے نام سہرا باندھ دیا ہے، بلکہ ہوا تو یہاں تک ہے کہ جب یوروپ کے سائنس داں مسلم سائنس دانوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے تو ان مسلم سائنسدانوں کے ایجادات کو اپنے نام کرلیا کرتے تھے۔
ابو علی حسن ابن الہیثم 965 عیسوی یعنی 354 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور 66 سال کی عمر میں 1021 عیسوی میں انتقال کر گئے، لیکن اس چھوٹی سی عمر میں جو سائنسی کارنامہ انجام دے دیا اس نے الہیثم کو سائنسی دنیا میں زندہ جاوید کردیا۔
ابو علی حسن ابن الہیثم نے آنکھ کی بناوٹ پر تحقیق کی۔ روشنی کیا چیز ہے؟ کوئی شے کیسے نظر آتی ہے؟ روشنی اور نور کی ماہیت کیا ہے؟ ان تمام باتوں پر وہ تحقیق کرتا رہا اور اپنی تمام معلومات، مشاہدات، تحقیقات اور تجزیہ کو ایک کتاب کی شکل میں یکجا کردیا۔ یعنی ’’کتاب المناظر‘‘ کی تصنیف کی۔ یہ کتاب علم طبیعیات کی اہم شاخ ’’روشنی‘‘ پر پوری دنیا میں ابو علی حسن ابن الہیثم کی پہلی کتاب اور جامع شاہکار ہے۔
ابن الہیثم نے روشنی کی ماہیئت اور حقیقت پر غور کرتے ہوئے اسے توانائی کی ایک قسم قرار دیا، جو کہ حرارتی توانائی کے مشابہ ہے، وہ کہتا ہے کہ:
’’ہمیں چیزیں کیسی نظر آتی ہیں؟ اس کی حقیقت بھی ابن الہیثم نے بتائی اور اس سے پہلے کے سائنسدانوں کے ذریعہ پیش کردہ نظریہ کو غلط ثابت کیا، کیوں کہ اس سے پہلے کا نظریہ تھا کہ ’’آنکھ سے روشنی کی شعاعیں نکلتی ہیں اور وہ جس چیز پر پڑتی ہیں، وہ چیز نظر آنے لگتی ہے۔‘‘ مگر ابن الہیثم نے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بات درحقیقت ایسی نہیں ہے۔ روشنی کی موجودگی میں آنکھوں سے کسی قسم کی شعاعیں نہیں نکلتی ہیں اور نہ ایسی شعاعوں کا کوئی وجود ہے، ا س کے برعکس سچائی یہ ہے کہ ’’جب روشنی کسی چیز پر پڑتی ہے تو روشنی کی شعاعیں اس چیز کے مختلف پہلوؤں سے پلٹ کر پھیل جاتی ہیں۔ ان شعاعوں میں سے کچھ شعاعیں آنکھوں میں پڑتی ہیں اور چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔‘‘ کیمرے کی تخلیق بھی اسی اصول پر کی گئی ہے، جس نے فوٹو کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔
ابن الہیثم نے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’پانی میں کوئی چیز ٹیڑھی کیوں نظر آتی ہے؟‘‘
شیشہ پر روشنی پڑتی ہے تو اس کا نقطۂ اجتماع (ماسکہ) یعنی فوکس کیاہے؟ اسی طرح سورج اور چاند افق بڑے کیوں نظر آتے ہیں؟ تارے رات کو جھلملاتے کیوں ہیں؟ انسان کو ایک کی بجائے دو آنکھیں کیوں عطا کی گئیں؟
غرضیکہ ابن الہیثم نے روشنی اور نور کے ’’انعکاس‘‘ اور ’’انعطاف‘‘ کے جو اصول دریافت کیے ہیں، وہ اب بھی سائنس دانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کیمرہ جیسی مفید ایجاد ابن الہیثم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور سورج کی کرنوں میں روشنی اور حرارت(گرمی) ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ اس طرح آگ یا چراغ کی ’’لو‘‘ روشنی بھی ہے اور حرارت بھی۔ گویا کہ روشنی اور حرارت کی اصلیت اور حقیقت ایک ہی ہے۔ سائنس کی دنیا نے ابن الہیثم کے ان اصولوں کو اپنا کر سائنسی معلومات کی دنیا کو بے حد دھنی بنا دیا ہے۔
ابن الہیثم نے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔نور افشاں اور بے نور۔
نور افشاں جسم وہ ہوتا ہے جو خود روشنی دیتا ہے، جیسے سورج، چراغ اور لیمپ۔
بے نور جسم خود تو روشنی نہیں دیتا ہے، مگر وہ بے نور جسم روشنی پاکر چمکتا ہے۔
پھر بے نور جسم کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
1۔ شفاف: جس میں روشنی آر پار آسانی سے گزر جاتی ہے۔ جیسے ہوا، پانی اور صاف و شفاف شیشہ وغیرہ۔
2۔ نیم شفاف: جس میں روشنی آسانی سے نہیں گزرسکتی اور دوسری طرف والی چیز اس طرف واضح نظر نہیں آتی ہے جیسے باریک کپڑا یا ر گڑا ہوا شیشہ وغیرہ۔
3۔ غیرشفاف چیزیں وہ جسم جس میں سے روشنی قطعاً پار نہیں گزر سکتی اور دوسری طرف کی چیزیں بالکل نظر نہیں آتی ہیں جیسے پتھر، لوہا وغیرہ۔
روشنی کے بارے میں ابو علی حسن ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ:
’’نور ہمیشہ خط مستقیم (سیدھا راستہ) میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے۔ روشنی ہی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اور اس تجربے کی بنیاد پر دوسرے سائنسدانوں نے فوٹو کیمرہ کا ایجاد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعہ سورج کی روشنی گزاری جائے تو اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا، وہ الٹا ہوگا۔‘‘ غرضیکہ ابن الہیثم نے ایسے بے شمار سائنسی کارنامے انجام دئے کہ رہتی دنیا تک انسانیت فائدہ اٹھاتی رہے گی اور خدا کی کرشمہ سازیوں کے گن گاتی رہے گی، کیوں کہ یہ ایسے سائنسداں گزرے ہیں جنہوں نے خدا کی تخلیق کردہ کائنات کے پوشیدہ حقائق کو آشکار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
قرآن کریم میں لکڑیوں، پتھروں، تارکول سے لے کر زمین، سورج، چاند تارے، سمندر، تیل، موتی، کیمیا، دواؤں کے راز بے شمار آیتوں میں بھرے پڑے ہیں۔ سائنس جب ریسرچ کر کے کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ صرف ایک کام کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ’’خدا کی نشانیوں کو پا کر انسانیت کو فائدہ اٹھانے کے لیے اور خدمات انجام دینے کے لیے سب کچھ وقف کردیتی ہے۔‘‘ یہی سائنس کا عظیم کارنامہ ہے اور اس طرح کے عظیم کارنامے بھی صرف خدا کی مرضی سے اور اس کے پسندیدہ بندوں کے ذریعہ انجام دئے جاتے ہیں۔ موحد سائنس داں بھی خدا کی عظیم طاقت اور اس کی کبریائی کو دل و جان سے ماننے کی وجہ سے عظیم سائنس داں ہونے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔
محترم قارئین! ’’چوتھی دنیا‘‘ میں آپ نے نہایت یکسوئی کے ساتھ اب تک کے تعارفی تقریباً سات عدد مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائی ہے۔ ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ خاص عنوان کے تحت آنے والے دینی عنوانات اور اس کے مواد کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے چار اہم الفاظ (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم کو سرسری طور پر سمجھنے کی زحمت کی ہے۔ گزشتہ تمام مضامین کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھ کر آئندہ کے مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائیں گے تو اصل مضامین آپ کے مفاد میں ہوں گے۔ ابتدائیہ یا تعارف و دیباچہ کے طور پر گزشتہ تمام ساتوں مضامین کو آپ ایک بار پھر یکجا کرکے پڑھنے کی زحمت فرمائیں تاکہ تمہیدی کلمات اور جملے آپ کے ذہنوں میں تازہ ہوسکیں۔
اس کے بعد کے شماروں میں اب ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے دیگر ذیلی عنوانات کے لیے خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنی کرم فرمائیوں کے ذریعہ ہمیں سکت عطا فرمائے تاکہ قاری کی خدمت میں وہ باتیں پیش کی جاسکیں، جو عنوان کا تقاضا ہیں۔
آئیے ہم سب غور و فکر کی دنیا میں چلیں۔ اپنے ذہن و دماغ، عقل و شعور کے دروازے’’وا‘‘ کریں۔ سائنس کی تحقیق کی دنیا میں۔ خدا کی کتاب قرآن کی بے شمار آیات کی دنیا میں۔ سائنسی مضامین کو اس لیے پڑھیں کہ خدا کی نشانیوں کی آگہی ان مضامین سے ہوتی ہے اور ان معلومات کے حوالے کتاب اللہ میں ملتے ہیں، جب سائنسی تحقیق کے نتائج قرآن کریم میں مذکور حوالوں سے میل کھاتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے کہ خدا کا کلام ’’آئین کائنات ہے‘‘، ’’کتاب ہدایت‘‘ ہے اور پوری انسانیت کے لیے ہے۔ سائنس ان رازوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے، جو راز کہ خدا کی خدائی میں یقین و اعتماد کو بے حد مضبوطی عطا کرتے ہیں۔
(جاری)
حوالہ جات:
1۔ قرآن کریم
2۔ محاضرات قرآنی، ڈاکٹر محمود احمد غازی
3۔ قرآن اور جدید سائنس، ڈاکٹر حشمت جاہ
گزشتہ مضامین میں ’’حاملین قرآن مسلم سائنسدانوں‘‘ میں سے صرف چند کے نام گنائے گئے تھے تاکہ ذہن سے یہ بات بالکل نکالی جاسکے کہ قرآن اور سائنس میں کوئی تضاد ہے۔ اگر کہیں تضاد ہے تو اس کی تحقیق اور تجزیہ کی ضرورت سائنس کو ہے، کیوں کہ کوئی بھی تحقیق یا ریسرچ جو قرآنی آیات کی مخالفت میں ہے۔ اس کا تجزیہ ہوتے رہنا ہے اور تحقیقی کام کو جاری رکھنا ہے اور یہ کام مسلم سائنس دانوں نے ہمیشہ کیا ہے، انہیں مسلم یا حامل قرآن سائنسدانوں میں سے ایک اور نام۔
ابو علی حسن ابن الہیثم کا بڑے اہتمام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان کے بے شمار سائنسی کارناموں میں سے مندرجہ عظیم الشان کامیابی ان کے نام ہیں۔ گزشتہ مضمون میں سرسری طور پر الہیثم کا نام ضرور لیا گیا تھا، مگر یہاں ذرا تفصیل سے ان کے کارنامہ کو پیش کیا جارہا ہے تاکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوسکے کہ کس طرح مسلم سائنس دانوں نے قرآن کے احکامات سے رہنمائی پا کر کارہائے نمایاں سائنس کے میدان میں دیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوسکے کہ مسلم سائنسدانوں کے ایجادات پر کس طرح لوگوں نے قبضہ کر کے یوروپ کے سائنس دانوں کے نام سہرا باندھ دیا ہے، بلکہ ہوا تو یہاں تک ہے کہ جب یوروپ کے سائنس داں مسلم سائنس دانوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے تو ان مسلم سائنسدانوں کے ایجادات کو اپنے نام کرلیا کرتے تھے۔
ابو علی حسن ابن الہیثم 965 عیسوی یعنی 354 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور 66 سال کی عمر میں 1021 عیسوی میں انتقال کر گئے، لیکن اس چھوٹی سی عمر میں جو سائنسی کارنامہ انجام دے دیا اس نے الہیثم کو سائنسی دنیا میں زندہ جاوید کردیا۔
ابو علی حسن ابن الہیثم نے آنکھ کی بناوٹ پر تحقیق کی۔ روشنی کیا چیز ہے؟ کوئی شے کیسے نظر آتی ہے؟ روشنی اور نور کی ماہیت کیا ہے؟ ان تمام باتوں پر وہ تحقیق کرتا رہا اور اپنی تمام معلومات، مشاہدات، تحقیقات اور تجزیہ کو ایک کتاب کی شکل میں یکجا کردیا۔ یعنی ’’کتاب المناظر‘‘ کی تصنیف کی۔ یہ کتاب علم طبیعیات کی اہم شاخ ’’روشنی‘‘ پر پوری دنیا میں ابو علی حسن ابن الہیثم کی پہلی کتاب اور جامع شاہکار ہے۔
ابن الہیثم نے روشنی کی ماہیئت اور حقیقت پر غور کرتے ہوئے اسے توانائی کی ایک قسم قرار دیا، جو کہ حرارتی توانائی کے مشابہ ہے، وہ کہتا ہے کہ:
’’ہمیں چیزیں کیسی نظر آتی ہیں؟ اس کی حقیقت بھی ابن الہیثم نے بتائی اور اس سے پہلے کے سائنسدانوں کے ذریعہ پیش کردہ نظریہ کو غلط ثابت کیا، کیوں کہ اس سے پہلے کا نظریہ تھا کہ ’’آنکھ سے روشنی کی شعاعیں نکلتی ہیں اور وہ جس چیز پر پڑتی ہیں، وہ چیز نظر آنے لگتی ہے۔‘‘ مگر ابن الہیثم نے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بات درحقیقت ایسی نہیں ہے۔ روشنی کی موجودگی میں آنکھوں سے کسی قسم کی شعاعیں نہیں نکلتی ہیں اور نہ ایسی شعاعوں کا کوئی وجود ہے، ا س کے برعکس سچائی یہ ہے کہ ’’جب روشنی کسی چیز پر پڑتی ہے تو روشنی کی شعاعیں اس چیز کے مختلف پہلوؤں سے پلٹ کر پھیل جاتی ہیں۔ ان شعاعوں میں سے کچھ شعاعیں آنکھوں میں پڑتی ہیں اور چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔‘‘ کیمرے کی تخلیق بھی اسی اصول پر کی گئی ہے، جس نے فوٹو کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔
ابن الہیثم نے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’پانی میں کوئی چیز ٹیڑھی کیوں نظر آتی ہے؟‘‘
شیشہ پر روشنی پڑتی ہے تو اس کا نقطۂ اجتماع (ماسکہ) یعنی فوکس کیاہے؟ اسی طرح سورج اور چاند افق بڑے کیوں نظر آتے ہیں؟ تارے رات کو جھلملاتے کیوں ہیں؟ انسان کو ایک کی بجائے دو آنکھیں کیوں عطا کی گئیں؟
غرضیکہ ابن الہیثم نے روشنی اور نور کے ’’انعکاس‘‘ اور ’’انعطاف‘‘ کے جو اصول دریافت کیے ہیں، وہ اب بھی سائنس دانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کیمرہ جیسی مفید ایجاد ابن الہیثم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور سورج کی کرنوں میں روشنی اور حرارت(گرمی) ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ اس طرح آگ یا چراغ کی ’’لو‘‘ روشنی بھی ہے اور حرارت بھی۔ گویا کہ روشنی اور حرارت کی اصلیت اور حقیقت ایک ہی ہے۔ سائنس کی دنیا نے ابن الہیثم کے ان اصولوں کو اپنا کر سائنسی معلومات کی دنیا کو بے حد دھنی بنا دیا ہے۔
ابن الہیثم نے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔نور افشاں اور بے نور۔
نور افشاں جسم وہ ہوتا ہے جو خود روشنی دیتا ہے، جیسے سورج، چراغ اور لیمپ۔
بے نور جسم خود تو روشنی نہیں دیتا ہے، مگر وہ بے نور جسم روشنی پاکر چمکتا ہے۔
پھر بے نور جسم کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
1۔ شفاف: جس میں روشنی آر پار آسانی سے گزر جاتی ہے۔ جیسے ہوا، پانی اور صاف و شفاف شیشہ وغیرہ۔
2۔ نیم شفاف: جس میں روشنی آسانی سے نہیں گزرسکتی اور دوسری طرف والی چیز اس طرف واضح نظر نہیں آتی ہے جیسے باریک کپڑا یا ر گڑا ہوا شیشہ وغیرہ۔
3۔ غیرشفاف چیزیں وہ جسم جس میں سے روشنی قطعاً پار نہیں گزر سکتی اور دوسری طرف کی چیزیں بالکل نظر نہیں آتی ہیں جیسے پتھر، لوہا وغیرہ۔
روشنی کے بارے میں ابو علی حسن ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ:
’’نور ہمیشہ خط مستقیم (سیدھا راستہ) میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے۔ روشنی ہی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اور اس تجربے کی بنیاد پر دوسرے سائنسدانوں نے فوٹو کیمرہ کا ایجاد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعہ سورج کی روشنی گزاری جائے تو اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا، وہ الٹا ہوگا۔‘‘ غرضیکہ ابن الہیثم نے ایسے بے شمار سائنسی کارنامے انجام دئے کہ رہتی دنیا تک انسانیت فائدہ اٹھاتی رہے گی اور خدا کی کرشمہ سازیوں کے گن گاتی رہے گی، کیوں کہ یہ ایسے سائنسداں گزرے ہیں جنہوں نے خدا کی تخلیق کردہ کائنات کے پوشیدہ حقائق کو آشکار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
قرآن کریم میں لکڑیوں، پتھروں، تارکول سے لے کر زمین، سورج، چاند تارے، سمندر، تیل، موتی، کیمیا، دواؤں کے راز بے شمار آیتوں میں بھرے پڑے ہیں۔ سائنس جب ریسرچ کر کے کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ صرف ایک کام کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ’’خدا کی نشانیوں کو پا کر انسانیت کو فائدہ اٹھانے کے لیے اور خدمات انجام دینے کے لیے سب کچھ وقف کردیتی ہے۔‘‘ یہی سائنس کا عظیم کارنامہ ہے اور اس طرح کے عظیم کارنامے بھی صرف خدا کی مرضی سے اور اس کے پسندیدہ بندوں کے ذریعہ انجام دئے جاتے ہیں۔ موحد سائنس داں بھی خدا کی عظیم طاقت اور اس کی کبریائی کو دل و جان سے ماننے کی وجہ سے عظیم سائنس داں ہونے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔
محترم قارئین! ’’چوتھی دنیا‘‘ میں آپ نے نہایت یکسوئی کے ساتھ اب تک کے تعارفی تقریباً سات عدد مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائی ہے۔ ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ خاص عنوان کے تحت آنے والے دینی عنوانات اور اس کے مواد کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے چار اہم الفاظ (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم کو سرسری طور پر سمجھنے کی زحمت کی ہے۔ گزشتہ تمام مضامین کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھ کر آئندہ کے مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائیں گے تو اصل مضامین آپ کے مفاد میں ہوں گے۔ ابتدائیہ یا تعارف و دیباچہ کے طور پر گزشتہ تمام ساتوں مضامین کو آپ ایک بار پھر یکجا کرکے پڑھنے کی زحمت فرمائیں تاکہ تمہیدی کلمات اور جملے آپ کے ذہنوں میں تازہ ہوسکیں۔
اس کے بعد کے شماروں میں اب ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے دیگر ذیلی عنوانات کے لیے خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنی کرم فرمائیوں کے ذریعہ ہمیں سکت عطا فرمائے تاکہ قاری کی خدمت میں وہ باتیں پیش کی جاسکیں، جو عنوان کا تقاضا ہیں۔
آئیے ہم سب غور و فکر کی دنیا میں چلیں۔ اپنے ذہن و دماغ، عقل و شعور کے دروازے’’وا‘‘ کریں۔ سائنس کی تحقیق کی دنیا میں۔ خدا کی کتاب قرآن کی بے شمار آیات کی دنیا میں۔ سائنسی مضامین کو اس لیے پڑھیں کہ خدا کی نشانیوں کی آگہی ان مضامین سے ہوتی ہے اور ان معلومات کے حوالے کتاب اللہ میں ملتے ہیں، جب سائنسی تحقیق کے نتائج قرآن کریم میں مذکور حوالوں سے میل کھاتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے کہ خدا کا کلام ’’آئین کائنات ہے‘‘، ’’کتاب ہدایت‘‘ ہے اور پوری انسانیت کے لیے ہے۔ سائنس ان رازوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے، جو راز کہ خدا کی خدائی میں یقین و اعتماد کو بے حد مضبوطی عطا کرتے ہیں۔
(جاری)
حوالہ جات:
1۔ قرآن کریم
2۔ محاضرات قرآنی، ڈاکٹر محمود احمد غازی
3۔ قرآن اور جدید سائنس، ڈاکٹر حشمت جاہ
No comments:
Post a Comment