بچوں کی پرورش مرحلہ وار ماں کے پیٹ میں |
وصی احمد نعمانی 
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بچہ چھ ماہ کے بعد جنم لے سکتا ہے اور پوری طرح صحت مند رہ سکتا ہے اور اپنی پوری زندگی عام بچوں کی طرح گزار سکتا ہے۔ اگلے چھ ماہ کے بعد 3 ماہ تک بچہ بڑھتا رہتا ہے اور صحت مند ہوتا رہتا ہے۔ 24 ہفتہ کا یعنی چھ ماہ کا بچہ اپنی زبان باہر نکالتا ہے۔اسے کسی تیز مہک کا پتہ چلنے لگتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں بہت اندھیرا ہوتا ہے کیونکہ پیٹ کے تین تاریک اندھیروں میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔یہ بات سورہ الزمر چیپٹر نمبر 23 آیت نمبر 6 میں بتا دی گئی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنین کا ارتقا ماں کے پیٹ کے اندر تین تاریک پردوں والے رحم میں ہوتا ہے یا تین پردوں والی مشیمہ جھلی (SAC )میں ہوتا ہے جس میں وہ لپٹا رہتا ہے۔سائنسی تحقیق قرآن کریم میں مذکور تین اندھیروں سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ کچھ بچوں کی آنکھیں ماں کے پیٹ میں 18 ہفتہ کے بعد پہلی بار کھلتی ہیں۔مگر اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آتا ہے۔ اس طرح دوسرے تین ماہ یعنی تیسرے مہینہ سے چھٹے مہینہ کی مدت میں بچہ کا پوری طرح نشو و نما ہوجاتا ہے۔ سبھی اعضاء جس میں سننے کی طاقت شامل ہے، یہ سب سے پہلے پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح بچہ سب سے پہلے ماں کے پیٹ میں پہلے پہل جو آواز سنتا ہے وہ اس کی اپنی ماں کی ’’ ڈکار‘‘یا ’’ ہچکی‘‘ ہوتی ہے۔ اسی طرح کھانا کھانے یا چبانے کی آواز بھی بچہ کو پہلے سنائی دیتی ہے۔ چونکہ بچے کو ماں کی آواز پہلے پہل سنائی دیتی ہے اور پیدا ہونے تک بے شمار بار ایسا ہوتا ہے ۔ اس لئے اپنی ماں کی آواز سے آشنا ہوجانے کی وجہ سے اس کا لگائو قدرتی طور پر ماں سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ الٹراسائونڈ کے وقت پیٹ میں ماں کے ایمونیٹک عرق کی موجودگی کی وجہ سے ایک خاص ترنگ یا لہر پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچہ کو آوازخوب سنائی دیتی ہے۔ ’’ لوب‘‘ کو کان کے پاس لگانے سے آواز زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔26 ہفتہ کے بعد بچہ ماں کے پیٹ میں اپنا 90 فیصد وقت سونے میں گزارتا ہے ۔ لگ بھگ آدھا کلو ایمونٹک عرق بچہ ماں کے پیٹ میں پی لیتا ہے اور پیٹ میں ہی انگوٹھا چوسنے کی شروعات کردیتا ہے۔ بچہ کا پھیپھڑا سب سے اخیر میں نشوو نما کے مراحل سے گزرتا ہے۔بچہ کے دل کی حرکت ماں کے دل کی حرکت سے دوگنی ہوتی ہے۔ اس حرکت کو ماں کے پیٹ پر کان لگا کر سن سکتے ہیں۔ اگر بچہ ماں کے پیٹ میں پریشان ہے تو اس کے دل کی حرکت بڑھے گی ورنہ کم رہے گی۔ماں کے تنائو یا خوشی کا اثر بچہ تک ’’ پلے سنٹا‘‘ کے ذریعہ یا ’’ نال‘‘ کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ اگر ماں دوران حمل زیادہ پریشانی سے گزرتی ہے تو بچہ کی زندگی پر اس کا منفی اثر اس حد تک بڑھ سکتا ہے کہ اسے دل کی بیماری تک پیدا ہوسکتی ہے۔ اس طرح بچہ چھ ماہ کے بعد پیدا ہو یا 9 ماہ کی مدت پوری کر لینے کے بعد، مگر تمام بچوں کے تمام اعضاء تین ماہ کی مدت میں پیدا ہوجاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ گیارہ سے بارہ ہفتہ میں بچہ ماں کے پیٹ میں حرکت بھی کرنے لگتا ہے۔ اس طرح رحم میں بچہ پوری طرح چلنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔یہ شروع کے تین مہینہ ماں کے لئے بے حد اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی شروع کے تین ماہ میں اسقاط حمل کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔تین ماہ کے بعد ہی لڑکا یا لڑکی ہونے کا پتہ لگانا ممکن ہوتا ہے ۔ چار ماہ میں بچہ لگ بھگ 14 سینٹی میٹر کی لمبائی کا ہوجاتاہے ۔ اس کا ہاتھ، پیر سے پہلے ترقی کرتا ہے۔ 16 ہفتہ میں بچہ اپنے ہاتھ پیر کلائی اور گھٹنہ کو چلا کر حرکت کرنے لگتا ہے اور اسے آس پاس کے ماحول کا احساس بھی ہونے لگ جاتا ہے۔ 18 ہفتہ کے بعد اس کا نظام ہاضمہ عمل کرنے لگتا ہے ۔ نال لگ بھگ 1/2 میٹر لمبا ہوجاتا ہے۔
ماں کے پیٹ میں سائنسی تحقیق کے مطابق اگر بچوں کو اچھی موسیقی ایک خاص مدت تک سنائی جائے تو بچہ اسے سن کر اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر بار بار ایک ہی سنگیت سنائی جائے تو اسے وہ یاد بھی کرلیتا ہے۔ سائنس نے ایک تجربہ کرکے یہ ثابت کیا کہ حمل کے دوران ایک بچہ کو ایک ہی سنگیت بار بار سنائی گئی ۔جب وہ پیدا ہوا تو اسے ان بچوں کے ساتھ کردیا گیا جن کو ماں کے پیٹ میں رہنے کی مدت میں سنگیت یا موسیقی نہیں سنائی گئی تھی۔ دونوں طرح کے بچوں کے سامنے وہی موسیقی پیش کی جاتی تھی تو جس بچے نے ماں کے پیٹ کی مدت میں اسے بار بار سن رکھا تھا اس کا فوراً موسیقی پر رد عمل ہوتا تھا۔جبکہ دوسرے بچہ پر اس کا رد عمل بالکل نہیں ہوتا تھا۔ اس سے سائنس نے اس بات کو ثابت کیا کہ بچوں کی قوت سماعت سب سے پہلے اور ماں کے پیٹ میں ہی پیدا ہوتی ہے ۔ سورہ ملک چیپٹر نمبر 67 میں آیت نمبر 23 میں دیکھنے کی طاقت سے قبل ہی سننے کی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پہلے کان کا ذکر ہوا ہے ۔اس کے بعد آنکھوں کا اور پھر دل کا ’’اور کہو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھ اور دل بنائے تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو‘‘
بچوں کی پیدائش کے وقت ماں کے پیٹ اور کمر میں درد ہوتا ہے اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹ میں کم جگہ ہونے کی وجہ سے 25 فیصد آکسیجن زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے بھی ماں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ چھٹ پٹاہٹ ہوتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر درد بڑھ جاتا ہے ۔ اس مرحلہ میں بچہ کے دماغ میں 100 ارب ’’یوران‘‘ یا ٹشوز کا نشو و نما ہوجاتاہے۔ مگر ماں کے پیٹ میں دستیاب ذرائع کی کمی ہونے لگتی ہے اور بچہ کی پیدائش کی پیش گوئی ہونے لگتی ہے۔ مگر مطالعہ کے مطابق صرف 5 فیصد بچے ہی بتائے گئے وقت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ صحیح اندازہ پیش کرنا سو فیصد ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ صرف AM UNATIC تھیلے کے پھٹنے اور رحم میں کھینچائو پیدا ہونے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ بچہ کی پیدائش کا وقت قریب آگیا ہے اور پیدائش کے تمام اعضاء قدرتی طور پر کام کرنے لگ جاتے ہیں۔بچہ کو رحم اور عضو خاص کے درمیان ایک اہم راستہ طے کرنا ہوتا ہے ’’ پلے سنٹا‘‘ ’نال‘‘ باہر نکل آتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں 13 کروڑ مائیں بچوں کو جنم دیتی ہیں ۔ پیدا ہوتے ہی بچے کے تمام اعضاء کام کرنے لگتے ہیں مگر نظام ہاضمہ سے متعلق ہر اعضاء ابھی اچھی طرح کام شروع نہیں کرتے ہیں۔ اسے اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے ایسی حالت میں چھ ماہ کی مدت تک بچہ کو ہر گز ہرگز ماں کے دودھ کے علاوہ باہر کی کوئی چیز نہیں دی جانی چاہئے اور سائنسی تحقیق کے مطابق قرآن کریم کے فرمان کی روشنی میں دو سال تک دودھ ماں کا پلانا چاہئے جیسا کہ سورہ البقرہ آیت نمبر 233 میں فرمان الٰہی ہے ’’جو والدین چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت کا دودھ پئے تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں‘‘۔ g
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بچہ چھ ماہ کے بعد جنم لے سکتا ہے اور پوری طرح صحت مند رہ سکتا ہے اور اپنی پوری زندگی عام بچوں کی طرح گزار سکتا ہے۔ اگلے چھ ماہ کے بعد 3 ماہ تک بچہ بڑھتا رہتا ہے اور صحت مند ہوتا رہتا ہے۔ 24 ہفتہ کا یعنی چھ ماہ کا بچہ اپنی زبان باہر نکالتا ہے۔اسے کسی تیز مہک کا پتہ چلنے لگتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں بہت اندھیرا ہوتا ہے کیونکہ پیٹ کے تین تاریک اندھیروں میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔یہ بات سورہ الزمر چیپٹر نمبر 23 آیت نمبر 6 میں بتا دی گئی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنین کا ارتقا ماں کے پیٹ کے اندر تین تاریک پردوں والے رحم میں ہوتا ہے یا تین پردوں والی مشیمہ جھلی (SAC )میں ہوتا ہے جس میں وہ لپٹا رہتا ہے۔سائنسی تحقیق قرآن کریم میں مذکور تین اندھیروں سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ کچھ بچوں کی آنکھیں ماں کے پیٹ میں 18 ہفتہ کے بعد پہلی بار کھلتی ہیں۔مگر اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آتا ہے۔ اس طرح دوسرے تین ماہ یعنی تیسرے مہینہ سے چھٹے مہینہ کی مدت میں بچہ کا پوری طرح نشو و نما ہوجاتا ہے۔ سبھی اعضاء جس میں سننے کی طاقت شامل ہے، یہ سب سے پہلے پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح بچہ سب سے پہلے ماں کے پیٹ میں پہلے پہل جو آواز سنتا ہے وہ اس کی اپنی ماں کی ’’ ڈکار‘‘یا ’’ ہچکی‘‘ ہوتی ہے۔ اسی طرح کھانا کھانے یا چبانے کی آواز بھی بچہ کو پہلے سنائی دیتی ہے۔ چونکہ بچے کو ماں کی آواز پہلے پہل سنائی دیتی ہے اور پیدا ہونے تک بے شمار بار ایسا ہوتا ہے ۔ اس لئے اپنی ماں کی آواز سے آشنا ہوجانے کی وجہ سے اس کا لگائو قدرتی طور پر ماں سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ الٹراسائونڈ کے وقت پیٹ میں ماں کے ایمونیٹک عرق کی موجودگی کی وجہ سے ایک خاص ترنگ یا لہر پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچہ کو آوازخوب سنائی دیتی ہے۔ ’’ لوب‘‘ کو کان کے پاس لگانے سے آواز زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔26 ہفتہ کے بعد بچہ ماں کے پیٹ میں اپنا 90 فیصد وقت سونے میں گزارتا ہے ۔ لگ بھگ آدھا کلو ایمونٹک عرق بچہ ماں کے پیٹ میں پی لیتا ہے اور پیٹ میں ہی انگوٹھا چوسنے کی شروعات کردیتا ہے۔ بچہ کا پھیپھڑا سب سے اخیر میں نشوو نما کے مراحل سے گزرتا ہے۔بچہ کے دل کی حرکت ماں کے دل کی حرکت سے دوگنی ہوتی ہے۔ اس حرکت کو ماں کے پیٹ پر کان لگا کر سن سکتے ہیں۔ اگر بچہ ماں کے پیٹ میں پریشان ہے تو اس کے دل کی حرکت بڑھے گی ورنہ کم رہے گی۔ماں کے تنائو یا خوشی کا اثر بچہ تک ’’ پلے سنٹا‘‘ کے ذریعہ یا ’’ نال‘‘ کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ اگر ماں دوران حمل زیادہ پریشانی سے گزرتی ہے تو بچہ کی زندگی پر اس کا منفی اثر اس حد تک بڑھ سکتا ہے کہ اسے دل کی بیماری تک پیدا ہوسکتی ہے۔ اس طرح بچہ چھ ماہ کے بعد پیدا ہو یا 9 ماہ کی مدت پوری کر لینے کے بعد، مگر تمام بچوں کے تمام اعضاء تین ماہ کی مدت میں پیدا ہوجاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ گیارہ سے بارہ ہفتہ میں بچہ ماں کے پیٹ میں حرکت بھی کرنے لگتا ہے۔ اس طرح رحم میں بچہ پوری طرح چلنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔یہ شروع کے تین مہینہ ماں کے لئے بے حد اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی شروع کے تین ماہ میں اسقاط حمل کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔تین ماہ کے بعد ہی لڑکا یا لڑکی ہونے کا پتہ لگانا ممکن ہوتا ہے ۔ چار ماہ میں بچہ لگ بھگ 14 سینٹی میٹر کی لمبائی کا ہوجاتاہے ۔ اس کا ہاتھ، پیر سے پہلے ترقی کرتا ہے۔ 16 ہفتہ میں بچہ اپنے ہاتھ پیر کلائی اور گھٹنہ کو چلا کر حرکت کرنے لگتا ہے اور اسے آس پاس کے ماحول کا احساس بھی ہونے لگ جاتا ہے۔ 18 ہفتہ کے بعد اس کا نظام ہاضمہ عمل کرنے لگتا ہے ۔ نال لگ بھگ 1/2 میٹر لمبا ہوجاتا ہے۔
ماں کے پیٹ میں سائنسی تحقیق کے مطابق اگر بچوں کو اچھی موسیقی ایک خاص مدت تک سنائی جائے تو بچہ اسے سن کر اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر بار بار ایک ہی سنگیت سنائی جائے تو اسے وہ یاد بھی کرلیتا ہے۔ سائنس نے ایک تجربہ کرکے یہ ثابت کیا کہ حمل کے دوران ایک بچہ کو ایک ہی سنگیت بار بار سنائی گئی ۔جب وہ پیدا ہوا تو اسے ان بچوں کے ساتھ کردیا گیا جن کو ماں کے پیٹ میں رہنے کی مدت میں سنگیت یا موسیقی نہیں سنائی گئی تھی۔ دونوں طرح کے بچوں کے سامنے وہی موسیقی پیش کی جاتی تھی تو جس بچے نے ماں کے پیٹ کی مدت میں اسے بار بار سن رکھا تھا اس کا فوراً موسیقی پر رد عمل ہوتا تھا۔جبکہ دوسرے بچہ پر اس کا رد عمل بالکل نہیں ہوتا تھا۔ اس سے سائنس نے اس بات کو ثابت کیا کہ بچوں کی قوت سماعت سب سے پہلے اور ماں کے پیٹ میں ہی پیدا ہوتی ہے ۔ سورہ ملک چیپٹر نمبر 67 میں آیت نمبر 23 میں دیکھنے کی طاقت سے قبل ہی سننے کی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پہلے کان کا ذکر ہوا ہے ۔اس کے بعد آنکھوں کا اور پھر دل کا ’’اور کہو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھ اور دل بنائے تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو‘‘
بچوں کی پیدائش کے وقت ماں کے پیٹ اور کمر میں درد ہوتا ہے اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹ میں کم جگہ ہونے کی وجہ سے 25 فیصد آکسیجن زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے بھی ماں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ چھٹ پٹاہٹ ہوتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر درد بڑھ جاتا ہے ۔ اس مرحلہ میں بچہ کے دماغ میں 100 ارب ’’یوران‘‘ یا ٹشوز کا نشو و نما ہوجاتاہے۔ مگر ماں کے پیٹ میں دستیاب ذرائع کی کمی ہونے لگتی ہے اور بچہ کی پیدائش کی پیش گوئی ہونے لگتی ہے۔ مگر مطالعہ کے مطابق صرف 5 فیصد بچے ہی بتائے گئے وقت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ صحیح اندازہ پیش کرنا سو فیصد ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ صرف AM UNATIC تھیلے کے پھٹنے اور رحم میں کھینچائو پیدا ہونے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ بچہ کی پیدائش کا وقت قریب آگیا ہے اور پیدائش کے تمام اعضاء قدرتی طور پر کام کرنے لگ جاتے ہیں۔بچہ کو رحم اور عضو خاص کے درمیان ایک اہم راستہ طے کرنا ہوتا ہے ’’ پلے سنٹا‘‘ ’نال‘‘ باہر نکل آتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں 13 کروڑ مائیں بچوں کو جنم دیتی ہیں ۔ پیدا ہوتے ہی بچے کے تمام اعضاء کام کرنے لگتے ہیں مگر نظام ہاضمہ سے متعلق ہر اعضاء ابھی اچھی طرح کام شروع نہیں کرتے ہیں۔ اسے اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے ایسی حالت میں چھ ماہ کی مدت تک بچہ کو ہر گز ہرگز ماں کے دودھ کے علاوہ باہر کی کوئی چیز نہیں دی جانی چاہئے اور سائنسی تحقیق کے مطابق قرآن کریم کے فرمان کی روشنی میں دو سال تک دودھ ماں کا پلانا چاہئے جیسا کہ سورہ البقرہ آیت نمبر 233 میں فرمان الٰہی ہے ’’جو والدین چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت کا دودھ پئے تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں‘‘۔ g
No comments:
Post a Comment