Saturday, 28 March 2015

رمضان کا معجزہ: نزول قرآن

وصی احمد نعمانی
قرآن کی حقانیت اور اس کی برکتوں، فضیلتوں اور قانونِ کائنات ہونے کا اعتراف ہر باشعور اور صاحب عقل و فہم نے کیا ہے، یہاں تک کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکروں اور مدبروں نے تو اس کتاب اللہ کو ساری انسانیت کی بھلائی کے لیے ایک نسخۂ کیمیا سے تعبیر کیا ہے۔ انسان جس قدر اس کی آیات اور مفاہیم کی گہرائیوں میں اترتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کتاب میں موجود علم و فن اور ہنر کا تذکرہ اس قدر جامع اور متوازن ہے کہ انسان اس سے رہنمائی حاصل کرکے دنیا اور آخرت دونوں جہان کی کامیابی سے اپنے دامن کو بھر سکتا ہے۔
یہ بھی قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ آج بھی اس روئے زمین پر لاکھوں مفسرین قرآن اور لاکھوں اس کے طالب علم موجود ہیں۔ ہر جگہ اور ہر محفل میں درسِ قرآن دینے والا اور اس کا سننے والا اس کی آیات کے نئے معانی اور اس کے الفاظ کے نئے مطالب کا ہدیہ لے کر اٹھتا ہے۔ یہ کمال قرآن کریم کے علاوہ کسی اور کتاب میں نایاب ہے۔ اس کا ایک معجزانہ پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کی حیرت انگیز تاثیر ہے۔ یہ خاصیت بھی کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ اس کتاب کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملہ نے انسانوں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔
جب رسولؐ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسلمانوں کے امور کی ذمہ داری سنبھالی تو اس وقت قرآن کریم کے لگ بھگ ایک لاکھ حفاظ کرام موجود تھے۔ یہ وہ حضرات تھے جنہیں قرآن کریم پورا زبانی یاد تھا اور ان کے پاس پورا قرآن پاک اسی طرح ذخیروں میں لکھا ہوا بھی تھا۔ ایسے حضرات تو لاکھوں میں تھے، جن کے پاس قرآن مجید کے مختلف اجزاء لکھے ہوئے تھے اور ان سب کو حفاظ کے علاوہ قرآن پاک کا بڑا حصہ زبانی یاد تھا۔ اس طرح حفاظ کرام نے پورے قرآن کریم اور دیگر حضرات نے قرآن کے حصوں کو اپنی اپنی رغبت کے اعتبار سے زبانی یاد کر رکھا تھا۔ یہی طریقہ آج بھی مروج ہے۔
انسانوں نے نظریات، عقائد، حتیٰ کہ لباس اور طور طریقے بدل دیے ہیں۔ ایسی کوئی کتاب تاریخ انسانی میں موجود نہیں ہے، چاہے وہ ادبی ہو یا غیر ادبی، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، ثقافتی ہو یا قانونی، کوئی بھی اس کا ہم پلہ تو کیا اس کے قریب بھی نہیں ہے۔
آپؐ صحابہ کرامؓ کو قرآن کریم عطا فرما کر دنیا سے تشریف لے گئے۔ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب آپؐ ہی کی مقرر کردہ ہے۔ آیات کی ترتیب بھی آپؐ ہی کی دی ہوئی ہے۔ آیات اور سورتوں کی بنیادی ترتیب آپؐ نے خود قائم فرمائی تھی۔ قرآن کریم کی 114 سورتیں اور ان کے نام بھی رسول اللہؐ کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات اور ان کے مختلف اجزاء الگ الگ وقتوں میں نازل ہوتے رہے ہیں، مگر نزول کی شروعات ماہِ رمضان میں ہوئی تھی۔ بعض سورتیں پوری کی پوری نازل ہوئیں اور بعض حصوں میں وقت ضرورت نازل ہوتی رہیں۔ بعض سورتیں ایسی ہیں کہ جب انہیں نازل کیا گیا تو ملائکہ کی ایک بڑی تعداد کے جلوس میں وہ سورت نازل ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ بھی روایت ہے کہ جب جبرئیل امین نزول کے وقت تشریف لاتے تھے، تو ان کے ہمراہ کئی فرشتے ہوتے تھے۔ بلا شبہ قرآن کریم کی عظمت کے اظہار کے طور پر ایسا ہوتا تھا۔ لیکن کچھ سورتیں ایسی ہیں، جن کے ساتھ کثرت سے فرشتے اتارے گئے۔ سورہ فاتحہ، جس کا نزول ایک سے زائد بار ہوا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ نازل کی گئی تو اس کے جلو میں اسی ہزار فرشتے تھے۔ سورہ فاتحہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نبوت کے آغاز میں بھی نازل کی گئی، اس لیے کہ نماز پہلے دن سے فرض تھی اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں لازمی حصہ ہے۔ پھر ایک مرتبہ اور مکہ میں نازل ہوئی۔ آخری مرتبہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ یہ تعداد مختلف سورتوں کی عظمتوں کا اظہار کرتی ہے، یعنی دوسرے لفظوں میں اس صورت کی شان یہ ہے کہ اسے بار بار نازل کیا جائے، کیوں کہ ہر نزول میں اس کی معنویت کا اظہار ہوتا ہے۔ بڑی سورتوں میں سورہ انعام ہے، جو پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی۔ سورہ یوسف بھی بڑی سورتوں میں شامل ہے، جو بیک وقت نازل ہوئی۔ اسی طرح سورہ کہف بھی ایک ہی ساتھ اور ایک ہی بار میں سوال کے جواب میں اتاری گئی۔ یعنی قرآن کریم کی آیات اور سورتیں سب کی سب حضورؐ کی ترتیب کردہ اور قائم کردہ ہیں۔ آپؐ جبرئیل امین کے ساتھ تلاوت کرتے تھے، یعنی حضورؐ اسی ترتیب سے تلاوت کو دہراتے تھے، جبرئیل امین بھی اسی ترتیب سے سناتے تھے اور صحابہ کرامؓ بھی اسی ترتیب سے تلاوت کرتے تھے۔ مگر سورتوں کے علاوہ بھی قرآن مجید کی کئی اندرونی ترتیبیں اور تقسیمیں ہیں، مثلاً پاروں کی تقسیم، رکوعات یا احزاب کی تقسیم، منزلوں کی تقسیم۔ یہ تقسیمیں کب کی گئیں، اس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کہنا دشوار ہے، کیوں کہ یہ سب تقسیمیں پڑھنے والوں کے لیے ان کی آسانی کے مد نظر بعد میں کی گئی تھیں۔
جب رسولؐ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسلمانوں کے امور کی ذمہ داری سنبھالی تو اس وقت قرآن کریم کے لگ بھگ ایک لاکھ حفاظ کرام موجود تھے۔ یہ وہ حضرات تھے جنہیں قرآن کریم پورا زبانی یاد تھا اور ان کے پاس پورا قرآن پاک اسی طرح ذخیروں میں لکھا ہوا بھی تھا۔ ایسے حضرات تو لاکھوں میں تھے، جن کے پاس قرآن مجید کے مختلف اجزاء لکھے ہوئے تھے اور ان سب کو حفاظ کے علاوہ قرآن پاک کا بڑا حصہ زبانی یاد تھا۔
جب حضور اکرمؐ کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کیے ہوئے 9 برس گزر گئے تو اس وقت تک قرآن مجید کا زیادہ تر حصہ مرتب کیا جا چکا تھا، لیکن اس کے لکھے جانے کی کیفیت یہ تھی کہ اس کے مختلف حصے مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے محفوظ تھے۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں الگ الگ کتابچوں اور صحیفوں کی صورت میں محفوظ تھیں۔ طویل اور لمبی سورتیں الگ الگ کاغذوں، جھلیوں اور تختیوں پر ٹکڑوں کی صورت میں لکھی ہوئی ہوتی تھیں۔ ایک صحابیؓ کی روایت کے مطابق، ان کے پاس قرآن مجید ایک صندوق میں محفوظ تھا۔ ایک دوسرے صحابیؓ کے مطابق، ان کے پاس ایک بڑے تھیلے میں محفوظ تھا۔ ایک اور صحابیؓ نے الماری کی قسم کی کسی چیز میں محفوظ کر رکھا تھا۔ ان تمام باتوں سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام اجزاء کاغذ کے ٹکڑے، تختیاں، ہڈیاں وغیرہ پر لکھ کر جمع کیے رہتے تھے، جنہیں بعد میں ترتیب کے مطابق یکجا کرکے موجودہ جلد کی شکل دی گئی۔
قرآن مجید کا خطاب دنیا کے ہر انسان سے ہے۔ قرآن مجید کا طرزِ استدلال ’’استقرائی‘‘ انداز کا ہے۔ یہی وہ اسلوب ہے، جس سے ایک فلسفی بھی استفادہ کر سکتا ہے اور ایک عام انسان بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے اپنے استدلال کی بنیاد واقعتا مشاہدہ پر اٹھائی اور جہاں عقل و استدلال کی بنیاد پر دلائل دیے گئے ہیں، وہاں عموماً منطق ’’استقرائی‘‘ کے اسلوب ہی اختیار کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مغربی مفکرین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے ہاں منطق ’’استقرائی‘‘ کے ارتقاء پر مسلمان مفکرین کے گہرے اثرات ہیں۔ ساری سائنسی ترقی کی بنیاد Inductive Logic پر ہے۔ اسی پر سائنس کی ساری عمارت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ منطق استقرائی جیسے جیسے ترقی کرتی گئی، سائنس کی پیش رفت کے دروازے کھلتے گئے۔ (حوالہ محاضرات قرآنی)
یہی وجہ ہے کہ یہ بات باشعور اور علم رکھنے والے مفکرین سے بھی پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ سبھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ اسلام اور سائنس دونوں آج کی زندہ ضرورتیں ہیں، جن سے دور بھاگنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن کی اہمیت کو معروف فرانسیسی مصنف ڈاکٹر مورسی بو کالے نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے:
’’قرآن ہمیں جہاں جدید سائنس کو ترقی دینے کی دعوت دیتا ہے، وہاں خود اس میں قدرتی حوادث سے متعلق بہت سے مشاہد و شواہد ملتے ہیں اور اس میں ایسی تشریحی تفصیلات موجود ہیں، جو جدید سائنسی مواد سے کلی طور پر مطابقت رکھتی ہیں۔ یہودی، عیسائی تنزیل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
ڈاکٹر مورس بوکالے نے ایک دوسری جگہ قرآن کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’قرآن کریم میں مقدس بائبل سے کہیں زیادہ سائنسی دلچسپی کے مضامین زیر بحث آتے ہیں۔ بائبل میں یہ بیانات محدود تعداد میں ہیں، لیکن سائنس سے ’’متباین‘‘ ہیں۔ اس کے برخلاف قرآن میں یہ کثرت مضامین سائنسی نوعیت کے ہیں۔ اس لیے دونوں میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ مؤخرالذکر (قرآن) میں کوئی بیان بھی ایسا نہیں، جو سائنسی نقطۂ نظر سے متصادم ہو۔ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے، جو ہمارے جائزہ لینے سے ابھر کر سامنے آتی ہے۔‘‘
ایک دوسرے بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر ڈاکٹر کیتھ مورلے کا کہنا ہے:
’’تیرہ سو سالہ قدیم قرآن میں ’جنینی‘ ارتقاء کے بارے میں اس قدر درست بیانات موجود ہیں کہ مسلمان معقول طور پر یقین کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے اتاری ہوئی آیتیں ہیں۔‘‘
اس رمضان المبارک کے ماہ میں، جو برکتوں اور فضیلتوں سے بھرا ہوا ہے، قاری سے درخواست کروں گا کہ قرآن کریم کی روزانہ پابندی سے تلاوت کریں اور اس کے معنی اور تفسیر کا بھی مطالعہ کریں، اس کی آیات میں غور و فکر کریں، تدبر کریں، تو ان پر بھی یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ساری کائنات اور اس کے ہر ذرہ میں خدا ہے۔ انہیں احساس اور یقین ہوگا کہ یہ قرآن کریم پوری کائنات کی رہنمائی، کنٹرول اور ان سب پر خدا کی حکمرانی کے لیے نازل کی گئی کتاب ہے۔

No comments:

Post a Comment