Saturday, 28 March 2015

نزول قرآن، ماہِ رمضان اور یہ کائنات

وصی احمد نعمانی 
دستور کائنات قرآن کریم کا نزول ماہ رمضان المبارک میں شروع ہوا اور ہمیشہ کے لئے سارے جہانوں کے لئے ایک ہدایت اور رہنمائی کی کتاب بن کر اس کائنات میں جلوہ فگن ہوا۔ فلکیات کے بعض ماہرین نے حساب لگا کر وقت ، تاریخ اور سال کا پتہ بتا دیاہے۔ مورخہ 26 جولائی610 ء یوم پیر بوقت ڈھائی بجے رات میں غار حرا میں جب آقائے مدنی مراقبہ میں مشغول تھے اسی وقت حضرت جبرئیل امین نے سرور کائنات سے فرمایا ’’ پڑھئے اللہ کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔پیدا کیا انسان کو علق سے، پڑھئے۔ اور تیرا رب بڑا کریم ہے ۔ جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘سورہ علق کی یہ ابتدائی پانچ آیات مبارکہ نے پوری کائنات کے لئے روشنی اور ہدایت کے نور کا دروازہ کھول دیا۔نزول قرآن کریم کی پوری مدت 22 سال 2 ماہ اور 2 دن ہے،جس میں مکی دور 12 سال 5 ماہ اور 13 دن پر مشتمل ہے اور مدنی دور 9 سال 9 ماہ اور 9 دن پر مشتمل ہے۔ پہلی وحی نازل ہوئی اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور متعدد صحابہ کرام سے روایت ہے کہ یہی 5 آیات ہیں جو سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس وقت سرور کائنات کی عمر مبارک قمری حساب سے 40 سال 6 ماہ اور 15 دن کی تھی جبکہ شمسی اعتبار سے 39 سال3 ماہ اور 16 دن کی تھی۔
قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کا لا متناہی سامان موجود پاتاہے مثلاً انسانوں میں جو لوگ فلسفے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کو اسی فلسفہ کے میدان میں فکری رہنمائی ملتی ہے ۔ اسی طرح جو لوگ معاشیات میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں ان کے میدان معاشیات میں مسائل کے حل ملتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ سیاسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں متعلقہ شعبہ جات میں مسائل کے حل ملتے ہیں۔
جس وقت وحی نازل ہوتی تھی سرور کائنات کے جسم اطہر پر ایک لرزہ سا پیدا ہوجاتا تھا اور آقا کے ذہن مبارک میں یہ الجھن پیدا ہوجاتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وحی کی آیات بھول جائیں ۔ اس خیال سے اسی وقت آپ ؐ جلدی جلدی تلاوت فرماتے تھے جو طبیعت مبارک پر ایک مزید الجھن پیدا کرتی تھی۔ ایک تو اس تجربہ کا بوجھ ، دوسرا دہرانے کا بوجھ۔ ان حالات میں بارگاہ خدا سے آپ ؐ کو بتایا گیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ وحی کے بھول جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اسے یاد کرانا اور آگے چل کر پڑھوانا ہماری (اللہ ) ذمہ داری ہے۔ اسی لئے اللہ نے کہا ہے کہ اس کتاب کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب جس شکل میں نازل ہوئی اسی شکل میں موجود ہے اور قیامت تک رہے گی۔ اسی ذمہ داری کا نتیجہ ہے کہ قرآن مجید کی ہر چیز اپنی جگہ محفوظ ہے۔ عربی زبان بھی محفوظ ہے۔دنیا میں زبانیں مٹتی رہتی ہیں ،ان میں تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے۔نزول قرآن کے زمانہ کی سب زبانیں مٹ گئیں یا بدل کر کچھ سے کچھ ہو گئیں ، صرف عربی زبان اس سے مستثنیٰ ہے۔یہ خود اپنی جگہ ایک اعجاز ہے۔ اسی لئے جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا قرآنی اعجازات کے نئے نئے پہلو سامنے آتے جائیں گے یہاں تک کہ لوگ گواہی دیںگے کہ قرآن کریم بر حق ہے۔ اسی لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق اس کی کارکردگی پر غور کریں تو خدا کی بے شمار نشانیاں ان کے سامنے آئیں گی۔ اس کی بنیاد پر انسان دل اور من سے یہ کہنے لگ جائے گا کہ اللہ کی کتاب تمام سوالات کا جواب دیتی ہے اور وقت کے تمام چیلنجز کے سامنے ثبوت اور دلیل کے ساتھ سچ ثابت ہوتی ہے۔ حضور کے کلام یعنی حدیث میں بھی پڑھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حصہ زیادہ زور دار ہے۔یہ حصہ زیادہ اثر انگیز ہے ۔یہ فرق تو حضورؐ کے کلام مبارک یعنی حدیث میں کبھی کبھی محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن قرآن کریم میں یہ فرق نہیںہے اور اس میں ایک ہی سطح کی فصاحت و بلاغت کی موجودگی ملتی ہے(محاضرات قرآنی،ڈاکٹر محمود احمد غاز)
قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کا لا متناہی سامان موجود پاتاہے مثلاً انسانوں میں جو لوگ فلسفے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کو اسی فلسفہ کے میدان میں فکری رہنمائی ملتی ہے ۔ اسی طرح جو لوگ معاشیات میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں ان کے میدان معاشیات میں مسائل کے حل ملتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ سیاسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں متعلقہ شعبہ جات میں مسائل کے حل ملتے ہیں۔قرآن کریم کی عظمت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی فصاحت و بلاغت کے سامنے ایسے بڑے بڑے زبان داں نے سر تسلیم خم کیا ہے جن کا شمار اس وقت کے عظیم زبان دانوں میں ہوا کرتا تھا۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ بڑے بڑے مخالفین قرآن نے جب قرآن کو بذات خودپڑھتے ہوئے سنا تو انہوں نے قرآن کے بیان و مفاہیم کے سامنے اپنے زور بیان کو فراموش کردیااور فوراً متاثر ہوگئے۔اس سلسلے میں حضرت عمر فاروقؓ کی مثال ایک درخشاں باب ہے۔ ایمان لانے سے قبل کا واقعہ بتاتے ہوئے حضرت عمر ؓ نے فرمایا ’’ کعبہ کے پردے میں چھپ کر میں نے حضور کی تلاوت سنی تو مجھے تلاوت سنتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل نکل کر باہر آجائے گا اس وقت حضور سورہ’ حاقۃ‘ کی تلاوت فرمارہے تھے۔میں اس کلام کے زور اور اس کی طاقت کی مزاحمت نہیں کرسکا۔میں نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے اور اپنے آپ کو کلام پاک کے اس اثر سے بچانے کے لئے خود کو اطمینان دلانا شروع کیا کہ یہ تو زبردست شاعرانہ کلام ہے۔ اسی وقت حضور کی زبان مبارک سے یہ الفاظ جاری ہوئے ’’ و ما ھو بقول شاعر‘‘یعنی وہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے دل کو تسلی دی کہ یہ کہانت ہے ۔اسی وقت حضور ؐ نے تلاوت فرمائی ’’ ولا بقول کاھن‘‘ یعنی اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔یہ سنکر مزید وہ اس کلام کو برداشت نہ کرسکے اور وہاں سے چل دیے۔ اسی الجھن میں چند روز گزرنے کے بعد اس قرآن کریم کا یہ اثر ہوا کہ فیصلہ کرکے گھر سے چلے تھے کچھ، اور کرگزرے کچھ اور۔بالآخر قبول اسلام کی نوبت آگئی۔کیونکہ قرآن کریم کا ہی یہ غلبہ تھا کہ ایمان قبول کیا اور عظیم مجاہد بن گئے۔
یہ کتاب علوم و معارف کا ایک لامتناہی گنجینہ ہے ۔رہتی دنیا تک کے لئے اور دستور العمل بھی۔ اس میں ہر دور کے لئے رہنمائی موجود ہے۔اسی لئے ہر دور کے اہل علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے دور کے انسانوں کے لئے اس کتاب کی تعبیر و تفسیر کا فرض انجام دیں۔ محدث طبرانی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ’’ اس کتاب کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوںگے اور یہ بار بار پڑھنے کے با وجود پرانی نہیں ہوگی ‘‘اس لئے اس ماہ مبارک میں دیگر عبادتوں کی جہاں بے حد اہمیت ہے وہیں روزانہ پابندی کے ساتھ تلاوت قرآن کی عظیم حیثیت ہے۔

No comments:

Post a Comment