Saturday, 28 March 2015

اللہ کی ذات کے علاوہ سب کو فنا ہونا ہے

وصی احمد نعمانی 
سائنسی کمالات و تحقیق نے ہمیشہ زمانہ کو متحیر کیا ہے۔اس کی تحقیق اور ثابت شدہ سچائی ہمیشہ انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ سائنسی نتائج پر غور و خوض کرے۔ صاحب ایمان نتائج کو درست اور سچ جان کر صرف اللہ کی عظمت اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ مادّہ پرست صرف سائنسی کمال سمجھ کر اپنے ذہن و عقل کو وا کرنے کے بجائے ہمیشہ کے لئے بند کرکے اپنی فکری صلاحیت کو محدود کر لیتا ہے ۔ایسا ہی سائنسدانوں کے گروہوں میں بھی ہوتا ہے۔اپنی کامیابی کو خود کا کمال سمجھ کر فکر و نظر کے فریب سے نہ نکلنے والا سائنس داں خود کو محدود دائرہ میں مقید کر لیتا ہے۔ جبکہ سائنسی عجائبات کی تحقیق اور تصدیق کر لینے کے بعد انصاف پسند اور منصف محقق خدا کے سامنے سر جھکا کر اس کی کرشمہ سازی پر یقین کرکے دین و دنیا میں سر خرو ہوجاتا ہے اور اپنی تحقیق کی بنیاد پر خدا کے راز کو اس کی مرضی کے مطابق آشکار کرنے والا جانا جاتا ہے۔ نیوٹن اور آئنس ٹائن ایسے ہی سائنس دانوں میں سے ہیں جو اللہ یا گاڈ یا سپریم پاور میں یقین کرتے ہوئے مانتے ہیں کہ اس کائنات کی تخلیق کرنے والی وہی ذات گرامی ہے ، جسے ما فوق الفطرت کہا جا سکتا ہے ۔ مذہب کے ماننے والے اسی کو خدا کہتے ہیں۔نیوٹن کے وجود کی تھیوری یا نظریہ کو وسعت دے کر آئنس ٹائن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ، قائم رکھنے والا ، چلانے والا ایک ہی ہے اور قیامت برپا کرنے والی بھی ایک ہی ذات ہے ،اس کو مذہب کو ماننے والے’ اللہ‘ کہتے ہیں۔ اسی اللہ کی ذات کو باقی بچنا ہے، باقی سب کو فنا ہوجانا ہے۔ آئنس ٹائن کے اسی نظریہ کا حوالہ سورہ رحمن نمبر 55 آیت نمبر 22 میں موجود ہے یا آئنس ٹائن نے جو بات اپنی کاوش اور ریاضی کی مدد سے سائنسی طور پر ثابت کی ہے وہ بات معجزانہ طور پر ساڑھے چَودَہ سو سال قبل قرآن کریم میں آشکار کردی گئی ہے۔ ہم ان باتوں کو تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم نیوٹن اور آئنس ٹائن کے فلسفہ ٔزمان و مکاں کو ذہن میں محفوظ کرلیں۔ اس نظریہ کے تحت یوروپ کے عظیم سائنسداں نیوٹن نے کہا تھا کہ ’’ کسی چیز کے وجود میں آنے کے لئے یا قائم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس چیز میں تین چیزیں لازمی طور پر ہوں (1 )اس کی مخصوص لمبائی (2)اس چیز کی باضابطہ چوڑائی ہو (3)اس چیز کی موٹائی ہو۔ انہیں حالات میں کسی چیز کا وجود میں آنا ممکن ہے۔
آئنس ٹائن نے کہا کہ ’’ اسی ایک ذات گرامی کو مذہب کے ماننے والے لوگ خدا کہتے ہیں‘‘ جو زمان و مکان کے قید سے بالکل مبّرا ہے۔ اور پھر اس نے صرف ایک اللہ کے ہونے کا ریاضی کی مدد سے سائنسی ثبوت پیش کیا ۔پہلے اس نے نظریاتی اصولوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جس سے وہ یہ ثابت کر سکے کہ ’ایک ہی ذات‘ مافوق الفطرت ہے۔ دو یا ایک سے زیادہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔ آخر کار انہوں نے ریاضی اور سائنسی نظریہ اور فارمولہ کو اپنا کر کہا کہ ’’ میں پوری کائنات میں نظر دوڑا کر ،سوچ اور غور کرکے جب دیکھتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ زمین و آسمان میں جتنے قوانین کیمیا اور طبیعات لاگو ہیں وہ سب کے سب اور ہر جگہ ایک ہی ہیں، دو یا ایک سے زیادہ ہرگز نہیں ہیں۔
ان تینوں چیزوں میں سے کوئی بھی ایک چیز غائب ہے یا موجود نہیں ہے تو اس چیز کا وجود میں آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلاً ایک کتاب ہے۔ اس کی لمبائی 12 سینٹی میٹر ہے اور چوڑائی9سینٹی میٹر ہے۔ اس کی موٹائی 3سینٹی میٹر ہے تو اس کتاب کا وجود ہے اور وہ کتاب ہمیں نظر آئے گی۔ لیکن اسی کتب کے تینوں لوازمات میں سے کوئی بھی ایک چیز صفر ہوجائے تو وہ کتاب اپنا وجود کھودے گی۔لمبائی صفر کردیں، چوڑائی زیرو کردیں یا موٹائی نا پید کردیں تو اس کتاب کا وجود میں آنا نا ممکن ہے۔
نیوٹن کے اس ’’وجود ‘‘ کے نظریہ کو آئنس ٹائن نے غلط ثابت کردیا ۔دوسرے لفظوں میں انہوں نے اس نظریہ میں سدھار پیدا کیا اور کہا کہ ’’ کسی بھی چیز کے وجود میں آنے کے لئے صرف تین لوازمات یعنی لمبائی، چوڑائی اور موٹائی ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس میں چوتھے جزو کا ہونا لازمی ہے اور وہ ہے’وقت‘۔بغیر وقت کے کوئی شئے وجود میں نہیں آسکتی ہے۔ مثلاً کتاب میں لمبائی ، چوڑائی ، موٹائی تو ہے،مگر اگر وقت موجود نہیں ہے تو کتاب کا وجود اس وقت نہیں ہے۔ ایک سال کا وقت اس کے ساتھ جڑا ہوا نہیں تھا، تو ایک سال قبل اس کتاب کا وجود نہیں تھا۔100سال،500سو سال یا ایک ماہ کا وقت اس کتاب کے ساتھ جڑا ہوا نہیں تھا، تو وہ کتاب نہ 100 سال ،نہ 500سال اور نہ ایک ماہ قبل موجود تھی۔یعنی کسی وقت بھی اس کتاب کا وجود نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی لمحہ جڑا ہوا نہیں تھا۔ اس لئے یوروپ کے دوسرے بڑے سائنس داں آئنس ٹائن نے یہ ثابت کیا کہ ’’ کسی بھی چیز کو وجود میں آنے کے لئے چار چیزوں یعنی لمبائی،چوڑائی اورموٹائی کے ساتھ وقت کا شامل ہونا ضروری ہے۔‘‘
اس آفاقی نظریہ کے پیش کئے جانے کے بعد آئنس ٹائن نے جو بات کہی وہ دل و جان ، روح و قلب میں ہمیشہ کے لئے بیٹھا لینے کے لائق ہے۔ آئنس ٹائن نے کہا ’’ جن جن چیزوں میں یہ چاروں لوازمات ہیں ،ان کو ہر حال میں اور اپنے اپنے وقت پر فنا ہونا ہے۔ صرف ایک یادو ذات کہ جن میں ان چاروں میں سے کوئی بھی چیز لازم نہیں ہے ،صرف انہیں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی بچناہے‘‘ اور پھر انہوں نے ریاضی کی مدد سے ثابت کیا کہ وہ ایک یا دو ذات کے شبہ میں وہ عظیم الشان ہستی نہیں ہے۔ بلکہ صرف ایک ہی ذات ہے جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی بچنا ہے اور رہنا ہے کیونکہ اس ایک ہی ذات گرامی کے ساتھ نہ لمبائی ،نہ چوڑائی اور نہ موٹائی کی قید ہے بلکہ ان تمام حدود اور شرائط سے وہ ہستی بالکل پرے ہے۔ آئنس ٹائن نے کہا کہ ’’ اسی ایک ذات گرامی کو مذہب کے ماننے والے لوگ خدا کہتے ہیں‘‘ جو زمان و مکان کے قید سے بالکل مبّرا ہے۔ اور پھر اس نے صرف ایک اللہ کے ہونے کا ریاضی کی مدد سے سائنسی ثبوت پیش کیا ۔پہلے اس نے نظریاتی اصولوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جس سے وہ یہ ثابت کر سکے کہ ’ایک ہی ذات‘ مافوق الفطرت ہے۔ دو یا ایک سے زیادہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔ آخر کار انہوں نے ریاضی اور سائنسی نظریہ اور فارمولہ کو اپنا کر کہا کہ ’’ میں پوری کائنات میں نظر دوڑا کر ،سوچ اور غور کرکے جب دیکھتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ زمین و آسمان میں جتنے قوانین کیمیا اور طبیعات لاگو ہیں وہ سب کے سب اور ہر جگہ ایک ہی ہیں، دو یا ایک سے زیادہ ہرگز نہیں ہیں۔ یہ مجھے اسی نتیجہ پر لے جاتا ہے کہ ان تمام قوانین کا بنانے والا ایک ہی ہے۔ دو یا ایک سے زیادہ تو ہو ہی نہیں سکتا ہے‘‘جو ہمیں اس بات کو ماننے کے لے ثبوت فراہم کرتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کرنے والا ،چلانے والا، ردو بدل کرنے والا اور ختم بھی کرنے والا ایک ہے، دو نہیں ہیں اور ہرگزنہیں ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پانی کا ایک قطرہ لیا جائے تو وہ چاہے ہندوستان، چائنا، امریکہ ، بحر اسود، بحر الکاہل، بحر منجمد یا اگر خلا میں بھی پانی مل جائے تو ان تمام پانی کا فارمولا ایک ہی ہوگا یعنی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کا ایک ہی ایٹم مل کر پانی کی تخلیق کرتاہے اور اس طرح ہر جگہ کے پانی کا فارمولا جسے کیمیائی زبان میں H2o کہتے ہیں ،وہ ہر جگہ ایک سا نہیں بلکہ ایک ہی ہے۔
اسی طرح انسان چاہے ہندوستان ، انڈونیشیا ، کنیڈا ، برطانیہ ، سعودی عربیہ، افریقہ وغیرہ کا باشندہ ہو۔ ان تمام کی خصوصیات ظاہرہ ایک ہی ہیں، بلکہ باطنی سوچ و سمجھ اپنے کسی رد عمل کے اظہار میں ایک ہی ہے۔ مثلاً دو ہاتھ، دو پائوں دو آنکھیں ،ایک دل، ایک جگر، پانچ انگلیاں ان پرناخنوں کی ساخت سب کے سب ایک ہی ہیں ۔چوٹ یا درد ہونے پر وہ روتا ہے ۔ خوشی میں مسکراتا یا ہنستا ہے۔ غم میں غمگین ہوتاہے، یعنی ظاہری اور باطنی طور پر اپنے رد عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہے ،جس کے تین ہاتھ ،تین پائوں ،چار آنکھیں یا دو دو قلب و جگر ہوں ۔ اگر دو خالق یا معبود ہوتے، تو اس کے فن میں یا تخلیق میں تضاد ہونا لازمی تھا۔ ایسا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کرنے والا صرف ایک ہے۔ دو کسی بھی صورت سے نہیں ہیں۔ یعنی وہ خالق و معبود ، زمان و مکان کی قید سے بالکل مبّریٰ ہے۔ وہ جو مبریٰ ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی اور قائم و دائم رہنا ہے۔ باقی زمان و مکان کے حصار میں رہنے والی تمام اشیاء کو ختم ہوجانا ہے۔ اس کا حوالہ سورہ رحمن میں موجود ہے۔

No comments:

Post a Comment