Friday, 27 March 2015


قرآن سائنس اور عظیم دھماکہ

وصی احمد نعمانی 
عظیم دھماکہ یا بِک بینگ جس کے ذریعہ سائنسی اعتبار سے کائنات وجود میں آئی، اس کے فلسفہ کے بارے میں بہت سے مفروضے یانظریہ پیش کیے گئے ہیں۔ سائنس دانوں نے کائنات کی تخلیق کے بارے میں کیسی کیسی قیاس آرائیاں کی ہیں ان پر ہم مختلف نظریوں سے غورکریں گے اور پھر بعد میں اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ کیا ان سائنسدانوں کے نظریے یا مفروضے قرآن کریم کی مذکور آیات سے میل کھاتے ہیں یعنی قرآن نے جو ساڑھے چودہ سال قبل بیان فرمادیا ،سائنس اب ان حقائق کو قبول کررہی ہے۔
1927میں بلجیم (BELGIUM)کے نامور سائنسداں اے بیلمیٹرے (ABE LAMETRE) نے کائنات کی پیدائش سے متعلق ایک مفروضہ پیش کیا کہ کائنات کی پیدائش بڑے بڑے ابتدائی ریزوں یا جوہر (PRIMORDIAL ATOMS)سے ہوئی۔ ان بڑے بڑے ریزوں کے پھٹنے سے ان کے اندر کے سارے مادے بکھر گئے اوران سے ہی کائنات کی وہ شکل وجود میں آئی جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔
اسی طرح کو لوریڈیونیورسٹی کے سائنس داں پروفیسر جارج میگو(Prof. GEORGEMAGO) نے اپنی مایہ ناز کتاب ’کائنات کی پیدائش‘ یعنیORIGIN OF UNIVERSEمیں لکھا ہے کہ کس طرح ابتدائی حالت میں کائنات کے گھنے اور جلتے ہوئے مرکز میں تمام مادے ساکن رہے ہوں گے ان کا خیال ہے کہ ابتدا میں کائنات کامرکز ناقابل قیاس حرارت سے ابل رہا تھا اور وہاں ایک ہی طرح کا بنیادی طورپر بھاپ کا ذخیرہ تھا۔ اس ذخیرہ میں ریزے یا جوہر نہیں بلکہ نیوٹران(NEOTRON)موجود تھے۔ جب کائناتی ذخیرہ پھیلنے لگا تو حرارت گرنے لگی اور جب اس میں 5-5ارب ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی ہوئی تو نیوٹران کم ہو کر ٹھو س شکل اختیار کرنے لگے۔ پھر الیکٹران(ELECTRON)ظاہر ہوئے۔ اس کے بعد ریزے یا جوہر (ATOM)کا ظہورہوا،جو کائنات کی ابتدائی شکل تھی۔ کئی عشروں کے غوروخوض اور تحقیقات کے بعد علم طبیعات اور کائناتی فزکس کے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا کہ کائنات کی تشکیل کو سب سے بہتر یا قابل یقین طود پر صرف عظیم دھماکہ یا بگ  بینگ کے نظریہ ہی نے بیان کیا ہے۔یہ نظریہ دو سائنس دانوں(۱) مارٹن رائیل اور (۲)ایلن سینڈیج نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک ناقابل یقین ’کثیف دھوئیں دارنقطے یا مقام سے‘ پھٹ کر وجود میں آگئی۔ اسی مقام یا نقطہ کو ’اکائی‘ یا (SYNGULARITY) کانام دیاگیا۔ کائنات کی تشکیل کے پہلے مرحلہ میں یہ اکائی یا سنگولریٹی اتنی شدید گرم حالت میں تھی کہ اس کی حدت کے متعلق قیاس آرائی کرنا بھی ناممکن ہے۔ ایک سیکنڈ کے سویں حصہ میں یہ اکائی ایک ابتدائی آگ کے گولے کی صورت میں پھیل گئی اور اس کا درجۂ حرارت تقریباً ایک سو ارب ڈگری کیلون(KELWN)تھی۔ اس گاڑھے شوربے جیسے وجود سے اس وقت تک پروٹون(PROTON) اور نیوٹرون (NEOTRON)نکل کر پھیلے نہیں تھے اور نہ ہی مشہور چاروں اندرونی مادے (PHYSICAL INTER ACTIONS) ہی برآمد ہوئے تھے۔ تب اس گاڑھے شوربہ جیسی چیزیں مادہ اور توانائی، متواتر ایک دوسرے میں تحلیل ہورہے تھے اور چاروں اندرونی باہمی عمل(INTERACTION)ایک  دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے اندرونی باہمی عمل کی صورت میں ہی تھے۔چنانچہ جیسے جیسے یہ انتہائی گرم اور دھوئیں سے اٹی اور بھری پٹی آتشی گیند پھیلنا شروع ہوئی، یہ بتدریج ٹھنڈی بھی ہونے لگی اور پھر ایک مکمل ترتیب کی صورت پیدا ہونا شروع ہوئی۔ پہلے پہلے کشش ثقلکی قوت یا مخالف باہمی عمل(INTERACTION) سے یہ علیحدہ شکل میں الگ ہوگئی اور اس کے بعد طاقتور اور کمزور برقی کشش کے مخالف باہمی عمل یا (ELECTROMAGNETIC INTERACTION)خود اس میں ترتیب سے پیدا ہوئے آسمانوں اور زمین کا دھماکے سے علحدہ ہونا (فتق) وقوع پذیر ہوا اور ترتیب کے ٹوٹ جانے اور ابتدائی ترتیب دیے گئے مخالف باہمی عملSYMMETRICA INTERACTION)کے علیٰحدہ (چاک) ہوجانے کی وجہ سے فزکس کے علم کے چار جانے پہچانے ’مخالف باہمی عمل‘ پیدا ہوئے جس کاذکر بعد میں ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں نہ صرف ابتدائی اکائی ہی کائنات سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوئی بلکہ ان قوانین کی علیحدہ پہچان بھی اسی قسم کے عمل کی وجہ سے ظاہر ہوگئی۔گویاکہ اللہ نے اپنی بے پناہ اور لامحدود شان کے طفیل کائنات کو ایک نقطے یا مقام سے پوری طرح پھیلا دیا، جس کھینچائویا تنائو کے ذریعے یہ عمل وقوع پذیر ہوا وہ سورہ شعریٰ نمبر42 آیت 5میں بیان کیا گیا ہے ترجمہ ’اللہ نے آسمانوں کو ترتیب دیا پھر اس تنائو کے ذریعہ زمین کو قائم کیا اس طرح موجودہ نظر آنے والی کائنات اور اس کے قوانین کو پیدا اور جاری کیا۔ اسی طرح ایک اور اہم نکتہ آسمانوں اور زمین کے ابتدائی ملاپ یا یکجا ہونے سے متعلق ہے جو سورہ الانبیا چیپٹر21آیت نمبر30 میں مذکور ہے۔ ترجمہ: ’کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے ان کو جداکیا۔ اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا ۔کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ شہرہ آفاق سائنسداں السٹائن کا نظریہ اضافت یا THEORY OF RELATIVITY اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ مادہ اور توانائی ایک موقع پر ایک ہی چیز تھیں۔ مادہ بذات خود توانائی کی تلیفی (CONDEN SED) صورت ہے اور توانائی اپنی جگہ ایک آزاد شدہ مادہ ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا کہ آسمانی کرہ اور وقت ایک دوسرے سے الگ نہیں کئے جاسکتے۔ یہ دونوں ایک خلا (کرہ آسمان) اور وقت کے تسلسل میں بندھے ہوئے ہیں۔
سائنسی اعتبار سے تخلیق کائنات واقعی ایک ابتدائی PRIMORDIALدھماکہ کا ہی نتیجہ ہے۔ سائنس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوتھائی صدی کی مدت میں کائنات کے وسعت پذیر ہونے سے متعلق اہم دریافتیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ یعنی پوری کائنات فلکی اور کروی طورپر ایک ایک غبارے کی طرح پھیل رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کرے کی سطح ایک مرکز سے باہر کی طرف مسلسل پھیل رہی ہے۔ قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ہم کائنات کو پھیلاتے ہیں‘‘۔چنانچہ یہ دریافتیں کہ کائنات پھیلتی جارہی ہیں قرآن کے فرمان سے پوری مطابقت رکھتی ہیں۔ ترجمہ: اور ہم نے آسمانوں کو اپنی قدرت سے بنایا ور اس کو ہم وسعت دے رہے ہیں‘۔سائنس کا یہ بھی کہنا ہے کہ1980 میں پہلے پہل بگ بینگکا نظریہ(1)رالف الفرRALPHALPHER (2)ہیز بیتھے(HANS BATHE)اور(3)جارج گاGERGEGAMW نے پیش کیا تھا۔ انہوںنے اس کی بنیاد آئن سٹائن کے اس تصویر رکھی کہ کائنات کو لازمی طورپر بڑھنا ہے یعنی وسعت پذیر ہونا ہے۔ حالیہ برسوں میں دو دریافتوں نے بگ بینگ تھیوری کو حتمی طورپر درست ثابت کردیا ہے۔ ان میں سے پہلے ریڈون ہبل کیREDSHIFTکی دور ہٹی ہوئی کہکشائوں میں نشاندہی کی دریافت ہے مگر اس سلسلہ میں فیصلہ کن واقعہ 1965 میں 3ڈگری کلون(3DEGREE KELWN) مائکرو دیوکی لیس منظر میں نظر آنے والی اس شعاع کے نکلنے کی دریافت تھی، جو کائنات میں سرایت کرجانے والی اس ابتدائی شدید دھماکہ کی باقیاتی ہیں۔ تب سے لے کر بگ بینگ تھیوری زیادہ دلکش اور معتبر انداز میں پیش کی جاتی رہی ہے اور جدید دور کی آسمانی فزکس کی تمام حیران کن دریافتوں پر بحثوں کی بنیاد بنتی رہی ہے۔ ایڈ شفٹ یا لال تغیر کا نظریہ بگ  بینگمفروضہ کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔ (حوالہ جات:قرآن کریم۔قرآنی آیات اور سائنسی حقائق۔ ڈاکٹرہلوک نورباقی

No comments:

Post a Comment